17

ادیب، کالم نگار اور محقق ستار بھٹی


ستار بھٹی، میرے بچپن کا دوست ہے اور ہم دونوں ہائی اسکول لاڑکانہ میں پڑھ چکے ہیں۔ میں میٹرک کرنے کے بعد میں گورنمنٹ ڈگری کالج میں داخل ہوگیا اور بھٹی گورنمنٹ کامرس کالج لاڑکانہ میں پڑھنے لگے۔

زندگی کی بھاگ دوڑ میں وہ کراچی چلے آئے اور پاکستان کوارٹرز میں رہائش اختیار کی۔ جیسا کہ میں محکمہ اطلاعات میں بھرتی ہونے کے بعد اکثر تبادلوں کی وجہ سے کراچی میں آتا اور جاتا رہا جس کی وجہ سے بھٹی سے ملاقاتیں رہتی تھیں اور وہ بھی جب لاڑکانہ اپنے والد اور بھائیوں سے ملنے آتے تو کافی گپ شپ رہتی۔ زندگی کے اس سفر میں ایک دن میرے چھوٹے بھائی ذوالفقار راجپر نے مجھے فون پر بتایاکہ ستار بھٹی کو دل کی تکلیف سے اچانک ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

اب یہ سب کچھ اتنا جلدی اور اچانک ہوگیا کہ ہمیں موقع ہی نہیں ملا کہ ہم اس سے مل سکیں ۔14 نومبر 2017ء کو صبح سویرے یہ خبر آئی کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔

ستار بھٹی نے سات کتابیں، سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں لکھیں، ایک کتاب’’ لاڑکانہ لیڈروں کی دھرتی‘‘ اردو میں ترجمہ کر کے چھپوائی اور دوسری کتاب جسے سندھی سے ترجمہ کروا کر اردو میں شایع کرنا چاہتے تھے، فن وادب کے افق کے ستارے‘‘ جس کا مواد کمپوز ہوچکا تھا اور تصویریں بھی اسکین ہوچکی تھیں مگر زندگی نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔

انگریزی میں ایک کتاب حسام الدین راشدی پر انھوں نے مرتب کی تھی جس میں نامور ادیبوں کی تحریریں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سندھی میں ان کی لکھی ہوئی کتاب ’’قیدی جس عید‘‘ شامل ہے جس کی کہانیاں حقیقت پر مبنی ہیں۔ جب کہ ان کی کتاب جنڈ ہواں، سچ،کالموں کی کتاب ہے، انھوں نے بڑے اچھے کالم بھی لکھے جو سندھ کے ایشوز اور سماجی معاملات کی عکاس کرتے تھے۔ وہ اکثر مجھے اپنا تحقیقی کام بھی دکھاتے، انھوں نے گھر میں دروازے کے برابر ایک چھوٹا سا کمرہ بنایا تھا جسے وہ آفس کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ وہ اپنی آخری کتاب ’’ستار بھٹی کی شخصیت اور خط‘‘ کے عنوان سے کتاب چھپواکر لائے۔ کتاب میں میرا لکھا ہوا خاکہ بھی تھا وہ پڑھ کر حیران ہوئے کہ میں اتنی معلومات ان کے بارے میں کہاں سے لایا۔

ستار بھٹی پورے سندھ میں ادبی پروگراموں میں حصہ لیتے تھے اور اپنی لکھی ہوئی کتابیں دوستوں کو تحفے کے طور پر دیتے، وہ اکثر دوستوں سے رابطہ رکھنے کے لیے خط، ای میل، ایس ایم ایس کو استعمال کرتے تھے مگر خاص لوگوںسے فون پر رابطہ کرتے۔ اس دنیا کو الوداع کرنے سے پہلے ستار بھٹی نے بہت سارا لکھا ہوا مواد پھاڑدیا اور کتابوں کے لیے انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ وہ کسی لائبریری کو دے دیں۔ حالانکہ انھیں کتابوں سے بڑا پیار تھا اور وہ مختلف اخبارات سے مواد کاٹ کر جمع کرتے تھے۔ وہ غربت میں رہ کر بھی بڑے متحرک رہے، انھیں بچپن ہی سے سیاست سے بڑا لگائو تھا جس کی وجہ سے اس نے بھٹو صاحب کی شخصیت سے متاثر ہوکر پی پی پی میں باقاعدہ شمولیت کی اور پارٹی کے ونگ سیاف کے ضلع لاڑکانہ کے صدر بھی رہے۔ وہ بھٹو، ممتاز بھٹو اور دوسرے لیڈروں کے پسندیدہ ورکر تھے۔ اس کے علاوہ وہ آزاد مارئونجہ اسٹوڈنٹ، فیڈریشن کے صدر (ضلع) بھی رہے۔ وہ پی پی پی بننے سے پہلے سندھ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے بھی صدر رہے وہ بڑے اچھے مقرر تھے، عوامی ہونے کی وجہ سے وہ کمیٹی تنظیمی یونین کے صدر بنائے جاتے تھے جس میں ٹانگہ اور پتے کی بیڑی کی یونین بھی شامل ہیں۔

سندھ گریجویٹ ایسوسی ایشن، سندھی ادبی سنگت کے بھی صدر اور جنرل سیکریٹری رہے اور انھوں نے اپنے دور میں بڑے بڑے پروگرام کیے اور اس کی تشہیر کرنے کے لیے خود پریس ریلیز اور فوٹو اخباری دفاتر لے جاتے تھے۔ لاڑکانہ فرینڈز ایسوسی ایشن سندھ کلچر ایسوسی ایشن بھی بنائیں جس کے ذریعے کئی سماجی، علمی اور ادبی پروگرام منعقد کیے جس میں سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات کو بلایا جاتا۔ انھیں علم وادب سے اتنا لگائو تھا کہ وہ اپنی جیب سے خرچ کرکے پروگرام کرتے تھے۔ دوستوں کو ایک دوسرے سے ملانے کے لیے عید ملن پارٹیاں بھی کرواتے تھے جس کی وجہ سے کئی سالوں سے بچھڑے ہوئے دوست ملتے تھے۔

کتابیں لکھنے کے دوران بھٹی کو کئی ایسی تجربات ہوئے جس نے انھیں بہت مایوس کیا جس میں خاص طور پر جب وہ لاڑکانہ کی شخصیات پر لکھ رہے تھے تو جو لوگ یہ دنیا چھوڑچکے تھے تو ان کی اولاد سے مواد اکٹھے کرنے کے لیے ان کو بڑے پاپڑ بیلنے پڑے۔ لوگ انھیں بلاکر ملتے نہیں تھے۔ خط کے جواب نہیں دیتے تصویریں نہیں ملتی تھیں، انھیں کئی کئی بار لاڑکانہ جانا پڑتا۔ فون پر رابطہ کرتے مگر کوئی Response نہیں ملتا جس کا ذکر وہ اپنی کتابوں میں کرچکے ہیں۔

ستار بھٹی بڑے با اخلاق، ٹھنڈے مزاج والے انسان تھے جنھیں میں نے کبھی بھی اونچی آواز سے بولتے یا غصہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہو، اگر اس سے کوئی زیادتی بھی کرتا تو وہ بڑے سنجیدہ طریقے سے اس بات کو بھلادیتے وہ بڑے اچھے صاف اور کلر فل کپڑے پہنتے تھے۔ بچوں اور گھر کی طرف بھی توجہ دیتے تھے اور ان کی عادت تھی کہ وہ دوستوں سے پر خلوص ہوکر ملتے۔

انھیں ہمیشہ ایک شکایت رہتی تھی کہ وہ لوگوں کی خدمت بے لوث ہوکر کرتے ہیں مگر ان پر کئی لوگ یہ الزام لگاتے تھے کہ انھیں ضرور کوئی مالی فائدہ ملتا ہے جو وہ یہ کام کرتے ہیں ۔ اس بات کی وجہ سے انھوں نے اپنے آپ کو بعد میں گھر تک ہی محدود کردیا تھا۔ وہ اپنی شریک حیات کو جہاں بھی پروگرام میں جاتے ساتھ لے جاتے تھے۔ ان کا رویہ سب کے ساتھ ہمدردانہ، شفقت والا تھا اور وہ ایک محنتی اور با وقار شخص تھے جس نے پوری زندگی محنت کرکے اپنے آپ کو معاشرے میں ایک مقام دلایا جس کی مثال کم ملتی ہے۔

ستار بھٹی کا جنم 2 جنوری 1952ء کو لاڑکانہ میں ہوا ، ان کی ذات تو ڈیرو ہے مگر پرائمری میں داخل کراتے وقت ان کے ماموں نے اپنی ذات بھٹی لکھوا دی۔ بھٹی نے پرائمری اسکول رحمت پور سے گورنمنٹ ہائی اسکول لاڑکانہ سے سات جماعتیں اور میٹرک ڈی سی ہائی اسکول لاڑکانہ سے اور ایم اے پولیٹیکل سائنس میں سندھ یونی ورسٹی سے 1992ء میں پاس کیا۔ بچپن میں ان کا اسٹائل اداکار دلیپ کمار اور پھر اداکار محمد علی کی طرح ہوتا تھا۔ انھوں نے بچپن میں اسٹیج ڈراموں میں کام کیا، فلمیں دیکھنے کا انھیں بے حد شوق تھا۔ ڈرائینگ بڑی اچھی کرتے تھے، ان کے والد قمر الدین ڈیرو ایک غریب آدمی تھے، ان کا بیٹا ستار ڈیرو پورٹ قاسم سے 20 گریڈ میں ریٹائرڈ ہوا۔ اس ادارے میں بھی انھوں نے افسران کی ایک تنظیم بنائی اور کئی پروگرام کروائے۔

کرکٹ کھیلنے کا انھیں بڑا شوق تھا مگر مہنگی گیم اور وقت کی کمی کی وجہ سے اسے جاری نہیں رکھ سکے۔ وہ قلمی دوست بنانے کا بھی شوق رکھتے تھے۔ ٹریولنگ کے شوق کی وجہ سے وہ دبئی دیکھنے گئے جب کہ پاکستان کے کئی شہر گھومنے جاتے تھے، انھیں فوٹو اور خط جمع کرنے کا خبط تھا اور ملک کے بڑے بڑے نامور شخصیات سے ان کی خط وکتابت جاری رہتی تھی وہ کئی سال سیاست کی وجہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے۔ انھوں نے کئی ایوارڈ اور انعامات بھی حاصل کیے۔

ستار بھٹی کی شادی 1977ء میں حمیدہ سے ہوئی، ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں، سوائے چھوٹے بیٹے کے باقی سب کی شادیاں ہوچکی ہیں جب سے بھٹی صاحب اس دنیا سے چلے گئے ہیں ان کی فیملی سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔ ہم جب بھی بھٹی کی تصویریں دیکھتے، ہماری یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ بے مثال شخص تھے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں