17

آئیڈیاز 2018 اسپیشل: پاکستان کی دفاعی پیداوار


عالمی دفاعی نمائش و سیمینار ’’آئیڈیاز 2018‘‘ میں جے ایف 17 تھنڈر کا ایک ماڈل۔ (فوٹو: فائل)

عالمی دفاعی نمائش و سیمینار ’’آئیڈیاز 2018‘‘ میں جے ایف 17 تھنڈر کا ایک ماڈل۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان میں نوے کے دہائی کو ملک کےلیے تاریک باب تصور کیا جا تا ہے۔ اس دور میں پاکستان میں سیاسی حکومتیں قائم کرنے کی کوشش کی گئی مگر ہر مرتبہ یہ حکومتیں اپنی مدت سے پہلے ہی ختم ہوتی رہیں۔ اس دہائی میں امریکا کی پاکستان سے ناراضگی اتنی ہی عروج پر تھی جتنی آج کل ہے۔ نوے کے دہائی میں امریکا اور بھارت کے درمیان سیاسی اور سفارتی قربت میں اضافہ ہوا تو بھارت نواز امریکی سینیٹر پریسلر نے ایک ترمیم کے ذریعے پاکستان کو جاری فوجی معاونت بند کردی؛ اور پاکستان کو فروخت کیے گئے ایف 16 لڑاکا طیاروں کو جو ڈیلیوری کےلیے تیار تھے، اچانک روک لیا گیا۔ ان طیاروں کی قیمت پاکستان نے ادا کربھی کردی تھی؛ اور ان طیاروں کے بجائے امریکا نے اپنی ناقص گندم پاکستان کو ارسال کردی۔ سرحد کی دوسری طرف بھارت تیزی سے اپنی دفاعی صلاحیت کو بڑھا رہا تھا اور بھارت نے روایتی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ میزائیل ٹیکنالوجی کو فروغ دینا شروع کردیا تھا جس سے پاکستان کو دفاع کے لحاظ سے تشویش لاحق ہوگئی تھی۔

پاکستان میں غیر مستحکم سیاسی حکومتوں نے تمام تر تلاطم کے باوجود ایسی پالیسی مرتب کی جس سے پاکستان کی دفاعی شعبے میں خود انحصاری میں اضافہ ہونے لگا۔ پاکستان نے اپنی ملکی دفاعی ضروریات پوری کرنے کےلیے مقامی صنعتوں کو فروغ دینا شروع کیا۔ اس کی بنیاد ’’ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا‘‘ کو مضبوط تر بنانے سے ڈالی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان نے دفاعی شعبے میں متعدد اہم منصوبوں پر کام شروع کردیا۔ چند ہی سال میں پاکستان نے مقامی ذرائع سے مین بیٹل ٹینک الخالد، لائٹ بیٹل ٹینک الضرار، بکتر بند گاڑیاں تیار کرلیں۔

ایسے میں دوست ملکوں کے تعاون سے پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی پر بھی توجہ دی اور چند ہی سال میں بہتر میزائل متعارف کرائے جن سے بھارت کی خطے میں عسکری برتری تقریباً مساوی ہوگئی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دفاعی تربیت، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل وار فیئر، سمیولیٹرز کے ساتھ ساتھ فضائی جنگ کے آلات کی تیار میں نمایاں اہداف حاصل کیے ہیں۔

امریکا کا خیال تھا کہ پاکستان کو پابندیوں میں جکڑ کر اور بھارت کو کھلی چھوٹ دے کر وہ خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے سیاسی اور سفارتی اہداف کے حصول میں کامیابی سے استعمال کرلے گا۔ مگر پاکستانی قوم کی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نے امریکا کے اس خواب کو چکناچور کردیا۔

پاکستان نے نوے کی دہائی میں حاصل کرنے والی دفاعی صلاحیت کو دنیا پر اجاگر کرنے کےلیے ’’ڈیپو‘‘ (DEPO) یا ’’ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن‘‘ قائم کی، جس نے نہ صرف بیرون ملک ’’میڈ ان پاکستان‘‘ دفاعی مصنوعات کو متعارف کرایا بلکہ پاکستان میں تیار ہونے والے اسلحے کی نمائش ’’آئیڈیاز‘‘ بھی منعقد کرنا شروع کی۔ اس نمائش کا مقصد دفاعی شعبے میں پاکستان کی پیداواری صلاحیت سے دنیا کو روشناس کرانا تھا اور اسلحے کی عالمی تجارت میں پاکستان کو ایک مقام دلانا تھا۔ سال 2000 سے شروع ہونے والی ’’عالمی دفاعی نمائش و سیمینار‘‘ (آئیڈیاز) کا سفر اب تک جاری ہے؛ اور اس سال آئیڈیاز 2018 منعقد کی جارہی ہے جو اپنے سلسلے کی دسویں نمائش ہے۔

آئیڈیاز 2018 پر نظر ڈالی جائے تو گزشتہ دو دہائیوں میں یہ نمائش کئی گنا بڑھ چکی ہے اور عالمی دفاعی نمائشوں میں اس نے اپنی ایک جگہ بنالی ہے۔ 2000 میں یہ نمائش ایکسپو سینٹر کے چار ہالز میں منعقد ہوئی تھی جس میں مندوبین کی تعداد ایک سو بھی کم تھی۔ مگر اس مرتبہ نمائش ایکسپو سینٹر کے چھ ہالز کے علاوہ تین عارضی ہالز تک پھیل چکی ہے۔ آئیڈیاز میں شرکت کےلیے 50 ملکوں کے 260 سے زائد اعلی سطحی مندوبین شرکت کررہے ہیں جن میں مختلف ملکوں کے وزرائے دفاع، وزرائے دفاعی پیداوار، سیکریٹری دفاع، جوائنٹ چیفس اور آرمی، نیوی اور ایئرفورس کے سربراہاں شامل ہیں۔ اس بار نمائش ہالز کی تعداد بڑھا کر 9 کردی گئی ہے۔

پاکستان کی جانب سے اپنے روایتی ہتھیار بشمول میزائیل، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، اینٹی مائننگ آلات، میزائل بوٹس اور سب سے بڑھ کر جے ایف 17 تھنڈر کو نمائش میں پیش کیا جارہا ہے۔ آپ کہیں گے کہ ان جنگی آلات کی تو پاکستان پہلے بھی نمائش کرتا رہا ہے۔ یہی سوال میں نے گزشتہ نمائش میں ایک اعلی فوجی افسر سے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی ساز و سامان جو آئیڈیاز 2000 میں رکھا گیا تھا اب بھی وہی ہے، مگر اس میں بہت سی تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔ جنگی آلات کے ڈیزائین ہر سال کی گاڑی کی طرح تبدیل تو نہیں کیے جاسکتے ہی۔ مگر ان کی فتار، صلاحیت، گن کی رینج، استعمال ہونے والے بارود کی صلاحیت، اور متعدد شعبوں میں تحقیق کے ساتھ ساتھ تبدیلی کی جاتی رہی ہے۔ پرانا اور نیا ٹینک بظاہر ایک جیسا لگے گا مگر ان دونوں کی کارکردگی میں بہت فرق ہوگا۔ پاکستان میں بننے والی دفاعی مصنوعات پر مسلسل تحقیق اور انہیں خوب تر بنانے (ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ) کا عمل جاری ہے۔ امریکا نے بھی ایف 16 طیارہ ستر کی دہائی میں بنایا تھا جسے بتدریج اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

مگر ایسا نہیں کہ پاکستان نے کوئی دفاعی ٹیکنالوجی اس عرصے میں تیار ہی نہیں کی۔ پاکستان نے نگرانی کےلیے بغیر پائلٹ کے طیاروں پر تحقیق کرکے اچھے یو اے ویز تیار کر لیے ہیں۔ اس مرتبہ نمائش میں بغر پائلٹ کے نگرانی کا طیارہ (جسے فوجی زبان میں یو اے وی اور عام فہم طور پر ڈرون کہتے ہیں) نمائش میں پیش کیا جارہا ہے۔ جی آئی ڈی ایس کا تیار کردہ براق اور عقاب پیش کیے جائیں گے۔ ان کے علاوہ نگرانی، تربیت اور ڈیجیٹل وارفیئر کے متعدد نئے آلات بھی نمائش میں رکھے جائیں گے۔

ڈیپو کے ایئر کموڈور طاہر کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنے مشاق طیارے ترکی، قطر، آذربائیجان کو فروخت کیے ہیں جبکہ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری میں نائیجریا کی دلچسپی ہے۔ جلد اس پر بھی معاہدہ ہونے کا امکا ن ہے۔

ڈیپو کے ڈائریکٹر کو آرڈینیشن بریگیڈیئروحید کا کہنا ہے کہ بیرون ملک اسلحے کی فروخت ایک مشکل، طویل اورصبر آزما کا م ہے۔ ان معاہدوں کو پختہ ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ اب تک پاکستان کی دفاعی مصنوعات کی برآمدات 30 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں اور متعدد ملکوں کی جانب سے اس حوالے سے دلچسپی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے آئیڈیاز کے مسلسل انعقاد سے اسلحہ فروخت کرنے والے ایک اہم ملک کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔

اس وقت دنیا میں اسلحے کی تجارت میں تیزی اضافہ ہورہا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق دنیا میں سالانہ 100 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں اسلحے کی عالمی تجارت میں 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسلحے کی خریداری کر کون رہا ہے؟ خطے میں دیکھا جائے تو ایشیا، خلیجی ممالک اور اوشیانا خطے کے ممالک، اسلحے کی خریداری بڑھا رہے ہیں جبکہ امریکا، یورپ اور افریقہ میں اسلحے کی فروخت کم ہورہی ہے۔ اسلحہ فروخت کرنے والے دس بڑے ملکوں میں ہالینڈ، اٹلی، اسرائیل، اسپین، برطانیہ، چین، جرمنی، فرانس، روس اور امریکا شامل ہیں۔ ایشیائی خطے میں بھارت کے جنگی جنون کی وجہ سے پاکستان سمیت تمام بھارتی ہمسائے اپنی عسکری قوت بڑھا رہے ہیں۔ یمن اور شام میں جنگی حالات بھی اسلحے کی خریداری کا اہم سبب ہیں۔

اب پاکستان ایسے خطے میں موجود ہے جہاں امریکی اثر و نفوذ کی وجہ سے عسکری تصادم کا خطرہ موجود ہے۔

جیسا کہ اپنی تحریر کا آغاز نوے کی دہائی میں پاکستان کو حاصل ہونے والے اسلحہ سازی کی صلاحیت کا ذکر کیا تھا۔ وہ بھی ایک مشکل صورتحال سے نکلنے کی کوشش تھی۔ اسی طرح جب نئی صدی کے آغاز پر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دھکیل دیا گیا تو پاکستان نے جس مہارت سے اس پر قابو پایا، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تاریخ انسانی میں اس طرح کی جنگ میں بہت کم ملک ہی کامیاب ہوسکے ہیں۔ یہ جنگ کیوں شروع ہوئی اور کیوں ہم پر مسلط ہوئی؟ یہ ایک الگ بحث ہے جس پر بات ہونی چاہیے۔ مگر پاکستان نے جس کامیابی سے اس جنگ میں نتائج حاصل کیے، وہ بھی دنیا کو بتانا ضروری ہے۔ سابق ایئر چیف سہیل امان نے جب پی اے ایف میوزیم میں پاکستان ایئرفورس کے شہداء کی یادگار کا افتتاح کیا تھا، اس موقع پر بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ہم پر ’’اے سمٹرک وار‘‘ (asymmetric war) مسلط کردی گئی ہے اور اس جنگ کو کیسے لڑنا ہے، یہ ہمیں کوئی سکھاتا بھی نہیں۔ پاکستان نے اپنے تجربوں سے یہ جنگ لڑنا سیکھا ہے۔ اور اب پاکستان نہ صرف سرحدی دفاع بلکہ دہشت گردی اور شورش سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت بھی حاصل کر چکا ہے۔ پاکستان کو دفاعی آلات کی فروخت کے ساتھ ساتھ اپنی اس صلاحیت کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک چینی جنرل اور فلسفی سون زُو (Sun Tzu) نے تقریباً 5000 سال قبل جنگی حکمت عملی کے بارے میں ایک تفصیلی کتاب ’’دی آرٹ آف وار‘‘ تحریر کی تھی۔ اسی فلسفے کی بنیاد پر آج بھی جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ کاروباری حکمت عملی بھی مرتب کی جاتی ہے اور دنیا میں جنگ کے حوالے سے ایک بڑا لٹریچر بھی تیار ہوگیا ہے جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

آئیڈیاز 2018 کی خاص بات سروسز چیفس کانفرنس کا انعقاد بھی ہے۔ جوائنٹ چیف آف اسٹاف تو نمائش کے سیمینار سے خطاب کریں گے، ان کے علاوہ سروسز چیفس کانفرنس میں پاکستان آرمی، نیوی اور ایئرفورس کے سربراہان بھی اپنی اپنی افواج کی صلاحیت اور دیگر موضوعات (بشمول دہشت گردی کے خلاف جنگ، اربن وارفیئر اور سرحدوں پر لڑائی) پر بھی مقالے پیش کیے جائیں گے۔

اس طرح پاکستان نہ صرف دفاعی آلات کی برآمد بلکہ دفاع سے متعلق فلسفے اور اسٹریٹجی کو بھی فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں