13

حکومت کی توجہ قبائلی علاقہ جات کے مسائل حل کرنے پر مرکوز


صدر پاکستان نے ضم شدہ قبائلی علاقوں کے باسیوں کودس سالوں میں ایک ہزار ارب روپے فراہمی کی خوشخبری سنائی۔ فوٹو : فائل

صدر پاکستان نے ضم شدہ قبائلی علاقوں کے باسیوں کودس سالوں میں ایک ہزار ارب روپے فراہمی کی خوشخبری سنائی۔ فوٹو : فائل

پشاور: ایک ہی ہفتے کے دوران صدر اور وزیراعظم کے دوروں کی وجہ سے خیبرپختونخوا یقینی طور پر فوکسڈ رہا کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے گزشتہ دونوں ادوار میں دونوں بڑوں کی جانب سے خیبرپختونخوا کا رخ ذرا کم ہی ہوا کرتا تھا تاہم ایک ہی ہفتے کے دوران موجودہ دور میں دو بڑوں کے دورے کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں ضم شدہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے جو مسائل درپیش ہیں انھیں حل کرنے میں یقینی طور پر مدد ملے گی۔

وزیراعظم ،آرمی چیف اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور گورنرکو لے کر وزیرستان گئے جہاں نہ صرف انہوںنے ان ضم شدہ علاقوں کے لیے پیکج کا اعلان کیا بلکہ پاک،افغان سرحد پر لگائی جانے والی باڑ سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا جبکہ صدر پاکستان نے تو پشاور میں دو دن گزارے اور نہ صرف یہ کہ ان ضم شدہ علاقوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی بلکہ ساتھ ہی تعلیم، سیاحت اور دیگر شعبوں سے متعلق بھی انھیں اپ دیٹ کیا گیا اورصدر نے بھی اپنی جانب سے ضم شدہ قبائلی علاقوں کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔

جہاں صدر پاکستان نے ضم شدہ قبائلی علاقوں کے باسیوں کودس سالوں میں ایک ہزار ارب روپے فراہمی کی خوشخبری سنائی، وہیں ہزاروں کی تعداد میں افراد کی پولیس سمیت مختلف محکموں میں بھرتیوں کی نوید بھی سنائی جس سے ان علاقوں میں ترقی اور روزگار کے نئے دور کا آغاز ہوگا، ان کے دورے کے اختتام پر منعقدہ پریس کانفرنس میں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ مذکورہ ضم شدہ علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد فوری طور پر نہیں ہو رہا کیونکہ صدر پاکستان کی جانب سے واضح کردیا گیا کہ جس آئینی ترمیم کے ذریعے مذکورہ علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا اسی ترمیم کے تحت ان علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کے لیے 25 جولائی2019 ء کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔

صدر کی جانب سے اہم بات یہ بھی کی گئی کہ وہ مرکز میں حکومت واپوزیشن کے درمیان جاری ٹینشن کو دور کرنے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں گے جس کے لیے انہوں نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے ہر سیشن کے دوران ایک دن پارلیمنٹ ہاؤس میں گزارنے کا اعلان کیا ہے اور صدر کی جانب سے مذکورہ اعلان کے زیر اثر خیبرپختونخوا کے گورنر شاہ فرمان نے بھی ایسا ہی اعلان کردیا کہ وہ بھی صوبائی اسمبلی کے ہر سیشن کے دوران ایک دن صوبائی اسمبلی میں گزارا کریں گے ۔

بادی النظر میں ایسادکھائی دیتا ہے کہ گورنرخیبرپخونخوا شاہ فرمان نے یا تو یہ اعلان جذباتی ہوکر کیا یا پھر اسمبلی سے اپنی پرانی رفاقت نے انھیں ایسا اعلان کرنے پر مجبور کردیا کیونکہ خیبرپختونخوا میں ایسے کوئی حالات نہیں ہیں کہ گورنر کو اسمبلی کے ہر سیشن کے دوران اسمبلی میں ایک دن گزارنا پڑے نہ تو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی قسم کی کوئی ٹینشن ہے اور نہ ہی کوئی مسلہ کہ جس کے حل کے لیے گورنر کی موجودگی ضروری ہو، قائمہ کمیٹیوں سمیت دیگر امور پہلے ہی وزیراعلیٰ محمود خان اپوزیش جماعتوں کے ساتھ اجلاس کا انعقاد کرتے ہوئے طے کرچکے ہیں جن پر اب کام جاری ہے تاہم اس کے باوجود بھی اگر صوبہ کے گورنر اپنا ایک دن صوبائی اسمبلی میں گزارنا چاہتے ہیں تو یقینی طور پر یہ ایک اچھی روایت ہوگی۔

یقینی طور پر خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کے حوالے سے مشکلات ابھی باقی ہیں جو آنے والے دنوں ہی میں ختم ہونگی جس کے لیے سینئر وزیر عاطف خان کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹی کی رپورٹ کا بھی سب کو انتظار ہے کیونکہ مذکورہ کمیٹی کی جانب سے جو رپورٹ صوبائی کابینہ میں پیش کی جائے گی اس میں جامع انداز میں مذکورہ علاقوں کے حوالے سے تجاویز سامنے لائے جانے کا امکان ہے تاہم اس سے ہٹ کر صوبائی حکومت کو ان علاقوں کے حوالے سے دومعاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن میں ایک تو وہاں پولیس کے نظام کا قیام اور دوسرا عدالتی سیٹ اپ قائم کرنا، پولیس دو، چار مرتبہ مذکورہ علاقوں کا دورہ کرچکی ہے تاہم صورت حال یہ ہے کہ قبائلی عوام تو کیا خاصہ دار اور لیوی اہلکار بھی پولیس کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ پولیس کے آنے سے ان کی نوکریاں اور وہ بادشاہی چھن جائے گی جو وہ اب تک کرتے آئے ہیں تاہم انھیں اس کام کے لیے تیار ہونا ہی پڑے گا کیونکہ بہرکیف ان علاقوں میں پولیس کا نظام قائم ہونا ہے۔

اور صرف پولیس نہیں بلکہ عدالتی نظام بھی یہاں قائم ہوگا تاہم اس کے لیے سردست صوبائی حکومت تیار نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ایک ماہ کے اندر مذکورہ ضم شدہ علاقوں میںعدالتی سیٹ اپ قائم کرنے کی ہدایات کے خلاف صوبائی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کر رہی ہے تاکہ سپریم کورٹ سے مزید وقت لیا جا سکے اور اگر عدالت عظمیٰ نے صوبائی حکومت کو وقت دے دیا تو اس دوران صوبائی حکومت کو سرعت سے کام کرتے ہوئے مذکورہ علاقوں میں عدالتی سیٹ اپ قائم کرنا ہوگا کیونکہ اس کام میں اب مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی اور اگر تاخیر ہوئی تو یقینی طور پر اس سے قبائلی عوام میں مزید مایوسی پھیلے گی۔ ایک جانب یہ تمام اقدامات جاری ہیں تو دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی پارٹی کے رفقاء آئین میں ترمیم کے باوجود اب بھی مذکورہ قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ اس سلسلے میں ایک مرتبہ پھر قبائلی عوام کو یکجا کرتے ہوئے اس بارے میں لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

یہ بات یقینی طور پر حیران کن ہے کیونکہ جب تک مذکورہ قبائلی علاقوں کوخیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے سلسلے میں آئینی ترمیم نہیں ہوئی تھی اس وقت تک جے یوآئی یا کوئی دوسری پارٹی اگر اس سلسلے میں مخالفانہ موقف اپنائے ہوئے تھی تو وہ الگ بات تھی تاہم آئینی ترمیم ہونے اورفاٹا کے خیبرپختونخوا کا حصہ بننے کے بعد بھی ایسا ہی موقف اپنانا اور اس سلسلے میں جرگہ بلانا قدرے عجیب اس لیے لگتا ہے کہ نہ تو مولانا فضل الرحمٰن کے پاس دوتہائی اکثریت ہے کہ وہ مذکورہ آئینی ترمیم کا خاتمہ کرسکیں اور نہ ہی کوئی دوسرا آپشن تاہم اگر ان کوششوں کی بجائے وہ ڈائریکٹ سپریم کورٹ سے رجوع کر لیں تو صورت حال واضح ہوجائے گی کیونکہ اگر مولانا فضل الرحمٰن اور فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے مخالفین سپریم کورٹ میں یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ مذکورہ انضمام غلط تھا اوران کے حق میں فیصلہ ہو جاتا ہے تو ان کا مسلہ حل ہوجائے گا اور اگر وہ عدالت عظمیٰ کو مطمئن نہیں کر پاتے تو تب بھی یہ باب بند ہوجائے گا تاہم ایسا صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ اگر اس ایشو پر سیاست کرنا مقصود نہ ہو۔

خیبرپختونخوا حکومت نے بھی سو روزہ پلان تیار کرلیا ہے جس کے تحت 26 مختلف شعبہ جات کے لیے سفارشات تیار کی گئی ہیں جس کی لانچنگ کے لیے وزیراعظم عمران خان کی پشاور آمد ہوگی جس کے بعد اس پلان پر عمل درآمد شروع کردیا جائے گا تاہم اس کام کے لیے صرف حکومتی خواہش کافی نہیں ہوگی بلکہ اس ضمن میں حکومت کو بیوروکریسی کو بھی اپنی راہ پر لانا ہوگا کیونکہ جو بھی پلان یا منصوبہ پیش کیا جانا ہے اس پر عمل درآمد کا فریضہ اسی بیوروکریسی کے سپرد ہونا ہے جو روایتی طور طریقوں سے کام کرنے کو ہی ترجیح دیتی ہے اور تبدیلی کے نام سے بدکنا بیوروکریسی کا شیوہ ہے تاہم اس بات کا انحصار تحریک انصاف اور صوبائی حکومت پر ہے کہ وہ کس طریقے سے بیوروکریسی کوروایتی بھول بھلیوں سے نکال کر تبدیلی کی راہ پر لاتی ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں