25

مارخور کی وادی خنجراب میں


ہنزہ ایسی یونانی اپسرا لگی جو مسافروں کو اپنی آغوش میں بھرکر ان کے دکھوں کو دامن میں بھرلے فوٹو:حامد، عظمت اکبر، نور بخاری

ہنزہ ایسی یونانی اپسرا لگی جو مسافروں کو اپنی آغوش میں بھرکر ان کے دکھوں کو دامن میں بھرلے فوٹو:حامد، عظمت اکبر، نور بخاری

کشتی جھیل کا فیروزی پانی چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔ انجن سے ’گھوں گھوں‘ کی آواز ماحول کے سکوت کو توڑ رہی تھی۔ درّے میں کشتی داخل ہوئی تو کسی دیومالائی داستان کا منظر دکھائی دیا اور میں دم بخود اس منظر کو دیکھتا رہا۔ چاروں طرف پہاڑوں میں گھری جھیل کسی بلوریں فرش کی مانند دکھائی دی جس کا فیروزی پانی اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر چمکتی برف اپنے سحر میں جکڑلیتی ہے۔ میں عطا آباد جھیل کا سفر کررہا تھا۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ دونوں بلاگز ترتیب وار پڑھ لیجیے:

میں راہی پربتوں کا

راہی نانگا پربت کا

راکا پوشی ویو پوائنٹ سے ہم ہنزہ پہنچے تو اس سے بڑھ کر پایا جتنا سنا تھا۔ بنانے والے نے بھی کیا خوب جنتِ ارضی بنائی ہے۔ بے ساختہ لبوں سے نعرہ سبحان اللہ بلند ہوتا ہے۔ ہنزہ ایک روپہلی کرن ہے، بہار کے پھلوں کی خوشبو ہے، جیسے الہڑ کنواری دوشیزہ جس کا حسن اپنے جوبن پر ہو، جیسے کوئی حسین یونانی اپسرا جو تھکے ماندے مسافروں کو اپنی آغوش میں بھرلے اور ان کے دکھوں کو، کچھ دن کےلیے ہی سہی، اپنے دامن میں بھرلے۔ وہ اس کی حسین وادیوں میں گم ہوجائیں اور عالم بے خودی میں فطرت سے قریب تر ہوتے جائیں۔

قدرت کے تمام رنگ یہاں موجود ہیں، دریائے ہنزہ کے کنارے بیٹھ کر اس کے سبز لہلہاتے کھیت، برفیلے پہاڑ ان میں بہتے چشموں اور جھرنوں کو دیکھیں تو پتا چلے کی زندگی کسے کہتے ہیں۔ ہمارے ریسٹ ہاؤس میں انگور، آلوچہ، سیب اور ناشپاتی سے بھرے درخت لگے تھے۔

ایک سیب توڑا اور گرد صاف کی تو اتنا سرخ اور خوبصورت کہ شوکیس میں سجانے کو جی چاہے۔ درخت کو ہلایا تو ٹپاٹپ درجنوں سیب زمین پر آن گرے۔ صبح دم بیدار ہوکر ہنزہ کے کوچوں میں چہل قدمی کو نکلیں تو قندھاری انار جیسے سرخ گالوں والے بچے بچیاں اسکول جاتے نظر آتے ہیں۔

ہنزہ کا قلعہ التت وادی پر سایہ فگن تھا، جیسے اپنے باسیوں کا نگراں ہو۔ قلعے کے دریچوں سے جھانکیں تو نیچے دریائے ہنزہ بہہ رہا ہے جیسے کسی رنگریز نے اس میں فیروزی رنگ گھول دیا ہو۔ پتلی رسی جیسی شاہراہ قراقرم، جس پر چلتی گاڑیاں کھلونا لگیں۔ قلعہ کے تالاب کے کنارے پر لگے پتے، پانی کی سطح پر خاموشی سے تیرنے میں مگن  تھے۔

ہنزہ کی صبح انتہائی خوبصورت اور ہلکی ہلکی مخمور فضا تھی۔ پہاڑی چشمے پیار کا نغمہ گاتے اپنے آپ میں مگن بہہ رہے تھے۔ ان کا معدنیات سے بھرپور پانی پئیں تو فرحت و تازگی ملتی ہے۔ سرخ، زرد، اودے، نیلے پیلے رنگوں کے پھولوں سے وادی چمن گل و گلزار بنی مہکتی رہی اور مسافر فطرت کے جھولے میں مسرت کے جھوٹے لیتا رہا۔

ہنزہ کی خوبصورتی نے جنت ارضی کی جھلک دکھلائی تو سوچا کہ جنت سماوی کتنی خوبصورت ہوگی۔ اسے دیکھ کر جنت حقیقی کی چاہت اور تڑپ بڑھ گئی۔ ہنزہ میں شب گزارنے کے بعد اگلے دن خنجراب کے سفر پر روانہ ہوئے ۔

عطا آباد کی سرنگوں سے گزرے جو 9 کلومیٹر طویل ہیں اور پہاڑوں کو تراش کر بنائی گئی ہیں۔ انہیں دیکھ کر انسانی ہمت اور مہارت کی داد دینی پڑتی ہے۔ سرنگوں کی تعمیر سے قبل کشتی میں گاڑیوں کو رکھ کر دریا پار کیا جاتا تھا۔

2010 میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کے بعد عطا آباد جھیل وجود میں آئی۔ زمین کے سرکنے سے بڑے بڑے مٹی کے تودے گرے جن سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے اور دریائے ہنزہ کا بہاؤ رک گیا جس کے نتیجے میں یہ جھیل وجود میں آئی۔

ساکن پانی کی یہ جھیل فیروزی رنگ کا بلوریں فرش دکھائی دیتی ہے، جیسے آئس اسکیٹنگ کا فلور ہو۔ جھیل کا پاٹ کشادہ ہے اور آگر جاکر جھیل ایک درے میں داخل ہورہی ہے۔ کشتیوں میں بیٹھ کر جائیں تو یوں لگے جیسے کسی طلسم کدے میں داخل ہورہے ہیں۔ جھیل کا پانی انتہائی سرد ہے جس میں چاروں اطراف کے پہاڑوں کی معدنیات شامل ہیں۔

عطا آباد جھیل سے آگے روانہ ہوئے تو  پاسو کونز آئے جنہیں دیکھ کر محسوس ہوا جیسے کوہ قاف کی وادی میں آنکلے ہوں۔ جیسے الف لیلیٰ کی کہانیوں میں دکھائی گئی طلسماتی دنیا کی مانند جنوں اور پریوں کا دیس ہو۔ کسی دیو نے اپنے قلعے میں ایک شہزادی کو قید کر رکھا ہو جو ’آدم بو! آدم بو!’’ کہہ کر مسافروں پر جھپٹ پڑے۔ کوئی شہزادہ ان وادیوں میں بھٹک رہا ہو اور پھر دیو کو شکست دے کر شہزادی کو بچا لے جائے؛ اور دونوں شادی کے بعد ہنسی خوشی رہنے لگیں۔ پاسو کونز کی فضا میں ابھری نوکیلی چوٹیاں فلک میں شگاف کرنے کو بے تاب تھیں۔

خنجراب کا سفر دلوں پر ہیبت طاری کردیتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے جیسے کسی مقدس سرزمین پر قدم رکھ کر اس کا تقدس پامال کردیا ہو۔ دونوں طرف فلک بوس ہیبت ناک پہاڑ، ساتھ بہتا دریائے ہنزہ اور درے سے گزرتی سڑک۔ یہ سب ایک خواب ناک ماحول لگتا ہے۔ ایک پراسرار سی خاموشی چھائی تھی جیسے کسی قہار و جبروت بادشاہ کا دربار ہو، جہاں حد ادب کے مارے کسی کو لب کشائی کی جرأت نہ ہو۔

بے اختیار دل خوف خدا سے لرزا اور قدرت کاملہ کا احساس جاگزیں ہوا۔ جیسے جیسے بلندی پر جاتے گئے، سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ بادلوں سے گاڑی گزری تو لگا جہاز میں سفر کرتے ہوئے بادلوں سے گزر رہے ہوں، لیکن حقیقت میں افق پر آسمان ابھی بہت دور تھا۔ دونوں طرف خشک، بے آب و گیاہ پہاڑ ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ابھی کوئی ریچھ نیچے اتر آئے اور گزرتی گاڑیوں پر حملہ کردے۔ بلند و بالا پہاڑ رب کی قدرت کاملہ کا اظہار کرتے ہیں، دلوں پر ہیبت اور خوف خدا طاری ہوتا ہے، وہ وَحْدَہ لَاشَرِیْکَ لَہ قہار ہے، مگر بندوں پر کتنا رحیم ہے کہ ان کی خطائیں معاف کردیتا ہے۔

سورج کی کرنیں بادلوں کی دیوار چیر کر زمین کا بوسہ لینے کی کوشش کرتیں مگر کچھ ہی کامیاب ہوپاتیں۔ خنجراب کی محافظ برف سے ڈھکی نوکیلی چوٹیوں سے نیچے وسیع و عریض دامن تک برف کی جھالریں لٹک رہی تھیں۔ یوں لگا جیسے گہرے رنگ کے بسکٹ پر کریم چھڑک دی گئی ہو۔

16 ہزار فٹ کی بلندی پر پاک چین سرحد خنجراب پہنچے تو منفی 10 درجہ حرارت میں چلتی ہوا جسم کو چیرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ مال سے بھرے بڑے ٹرک چین سے پاکستان میں داخل ہورہے تھے۔ ایک چینی نے ہمیں دیکھ کر ہاتھ ہلایا جیسے ہم اس کے استقبال کےلیے وہاں کھڑے ہوں۔ میں نے بھی ہاتھ ہلا کر ایک خوشگوار مسکراہٹ اس کی طرف اچھال دی۔

دور برف کے پہاڑ کھڑے تھے لیکن ان تک پہنچنے کا سوچا بھی نہیں کیونکہ زیادہ دیر تک اتنی ٹھنڈ برداشت کرنا آسان نہ تھا۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بعض لوگوں کو سانس لینے میں بھی دقت محسوس ہونے لگی۔

الحمدللہ… یوں کراچی تا خنجراب ہمارا 5 دن کا سفر مکمل ہوا۔

میں کراچی تو لوٹ آیا لیکن اپنا دل وہیں چھوڑ آیا۔ کئی سال پہلے کی بات ہے، مستنصر حسین تارڑ کے سفر نامے پڑھنے شروع کیے تو پڑھتا ہی چلا گیا جنہوں نے دل میں سیاحت کی جوت جگادی۔ وہ ایسی منظر کشی کرتے ہیں گویا قاری اپنی آنکھوں سے ان کا ہم سفر ہو اور پردے پر سارے مناظر آنکھوں کے سامنے چلنے لگیں۔

جب میں نے اس سفر کا قصد کیا تو لاعلمی کی وجہ سے کچھ پریشانی تھی، تاہم پھر عظمت اکبر اور نور علی بخاری کے ٹریول گروپ سے رابطہ ہوا جنہوں نے عالمی یوم سیاحت کی مناسبت سے 12 ہزار روپے کے معقول معاوضے پر اسلام آباد سے خنجراب تک اس پورے سفر کا اہتمام کیا جس میں ٹرانسپورٹیشن، رہائش اور کھانا پینا، سب شامل تھا اور بلاشبہ انہوں نے بہترین انتظامات کیے۔ اگر اچھے ہم سفر مل جائیں تو منزل آسان اور کٹھن راستہ بھی خوشگوار ہوجاتا ہے۔

اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں کبھی کبھی وقت نکال کر پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کی سیاحت کرنی چاہیے کہ اللہ کی خوبصورت دنیا کو دیکھ کر ایمان میں مزید اضافہ ہوتا ہے کہ کوئی تو ہے جس نے یہ خوبصورت جنت ارضی بنائی ہے؛ تو پھر حقیقی جنت سماوی کیسی ہوگی، جسے نہ آنکھ نے دیکھا نہ سوچا۔ تو پھر اسی جنت سماوی کی جستجو میں رب کی کبریائی کا نغمہ بلند کرتے چلیں۔ آخر میں سب سے یہی گزارش ہے کہ خدارا شمالی علاقہ ہو یا ملک کا کوئی بھی حصہ، کچرا نہ پھیلائیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ گلوبل وارمنگ اور درختوں کی اندھا دھند کٹائی نے ہمارے پُرفضا مقامات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں