11

ویلڈن یاسر، عمران اینڈ سدھو


ayazkhan@express.com.pk

[email protected]

یاسر شاہ نے 36سال بعد عمران خان کا ایک ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ دبئی ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے آخری کھلاڑی ٹرینٹ بولٹ کا سرفراز احمد نے کیچ کیا تو وہ یاسر شاہ کی میچ میں 14 ویں وکٹ تھی۔ عمران خان نے یہ کارنامہ 1984 میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں سر انجام دیا تھا۔

عمران خان اور یاسر شاہ دونوں نے پہلی اننگز میں آٹھ اور دوسری اننگز میں چھ مخالف کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگایا۔ موجودہ وزیراعظم عمران خان اپنے وقت کے بہترین آل راؤنڈر تھے اور انھوں نے اپنی فاسٹ بولنگ سے سری لنکن بیٹسمینوں کا شکار کیا۔ یاسر شاہ لیگ اسپنر ہیں اور انھوں نے اپنی ٹرننگ بولز سے کیویز کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کیا۔

کپتان نے 14 وکٹیں لینے کا کارنامہ 116 رنز کے عوض انجام دیا تھا جب کہ یاسر شاہ نے اتنی ہی وکٹوں کے لیے 184 رنز دیے۔ کسی کرکٹر کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ اس کا نام کسی عظیم کرکٹر کے ساتھ لیا جائے۔ یاسر شاہ کے اس ریکارڈ کا جب بھی تذکرہ ہو گا ان کے نام کے ساتھ عمران خان کا نام ضرور آئے گا۔آسٹریلین کرکٹ ٹیم کے کپتان مارک ٹیلر ہوا کرتے تھے۔ انھوں نے ایک میچ میں ٹرپل سنچری بنائی۔ ان کا اسکور جب 334 رنز پر پہنچا تو انھوں نے اننگز ڈکلیئر کر دی۔ بعد میں ان سے وجہ پوچھی گئی تو انھوں نے کہا کہ عظیم کرکٹر سر ڈان بریڈ مین کا زیادہ سے زیادہ اسکور 334 رنز تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے ریکارڈ کا جب بھی ذکر ہو ڈان بریڈ مین کا نام بھی ساتھ آئے۔ یہ ہوتی ہے کسی کرکٹر کی خواہش کہ اس کے نام کے ساتھ کسی عظیم کرکٹر کا نام ہمیشہ کے لیے جڑ جائے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں جم لے کر کا ریکارڈ ٹوٹنا ممکن نہیں لگتا۔ انھوں نے 62 سال پہلے انگلینڈ کے اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف ایشنز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میں 19 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔ 1956 میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں رائٹ آرم آف اسپنر جم لے کر نے 9 اور دوسری اننگز میں 10 کینگروز کا شکار کیا تھا۔ یاسر شاہ نے دبئی ٹیسٹ میں صرف ریکارڈ ہی نہیں بنایا پاکستان کو سیریز میں واپس بھی لے آئے ہیں۔ یاسر شاہ ایک ہی دن میں دس وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی باؤلر بھی بن گئے ہیں۔ انھوں نے دبئی ٹیسٹ کے تیسرے دن یہ ریکارڈ بنایا جب نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 90 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پھر فالو آن کرتے ہوئے اسی دن اپنی مزید دو وکٹیں گنوا بیٹھی۔ ابوظہبی میں کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ پاکستان صرف 4 رنز سے ہار گیا تھا۔

سیریز کا فیصلہ کن میچ ابو ظہبی میں 3 دسمبر سے شروع ہونے والا ہے۔ یاسر شاہ کو ٹیسٹ میچوں میں تیز ترین 200 وکٹوں کا ریکارڈ بنانے کے لیے مزید5 وکٹیں درکار ہیں۔ وہ32ٹیسٹ میچوں میں195وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ یاسر نے ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی طرف سے صرف17ٹیسٹ میچوں میں 100وکٹیں لے کر ایشیا میں وکٹوں کی تیز ترین سنچری بنانے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ لیگ اسپنر یاسر جن کی ارجنٹائن کے اسٹار فٹ بالر لیونل میسی سے مشابہت ہے ریکارڈ پر ریکارڈ بناتے جا رہے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی بولنگ بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں یہ ریکارڈ بھی بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ توقع ہے کہ پاکستان تیسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز بھی جیت جائے گا۔

عمران خان کا ذکر ہوا ہے تو پاک بھارت تعلقات پر بھی تھوڑی بات ہو جائے۔ عمران چونکہ کرکٹر ہیں اور انھوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے لیے جو ’’کرتار پور ڈپلومیسی ‘‘شروع کی ہے اس کا آغاز کامیابی سے ہو گیا ہے۔ 71سال سے جو راہداری نہیں کھل سکی وہ کپتان کے دور اقتدار کے پہلے تین ماہ میں کھل گئی ہے۔ ماضی کے دو کرکٹر جن میں سے ایک آج پاکستان کا وزیراعظم اور دوسرا بھارتی پنجاب کا وزیر ثقافت و سیاحت ہے، کرتارپور راہداری کے سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر سب سے زیادہ خوش نظر آئے۔ عمران خان اور نوجوت سنگھ سدھو نے انجمن ستائش باہمی کا بھی خوب مظاہرہ کیا۔ اس راہداری کے کھلنے کی راہ ہموار ہونے کا کریڈٹ حکومت کے ساتھ ساتھ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی جاتا ہے۔

جنہوں نے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں خود بھی شرکت کی۔ کرتار پور ڈپلومیسی کے فوری ثمرات ملنے کے امکانات کم ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے مثبت اثرات نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ پاکستان نے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی انتہا پسند نظریات اور پاکستان مخالف بیانیے کی وجہ سے بری طرح پھنس چکی ہے۔ بھارت میں آیندہ برس عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ مودی سرکار کرتار پور راہداری کھولنے سے آگے نہیں جائے گی۔ البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اگر اس نے اس فیصلے کو ریورس کرنے کی کوشش کی تو اسے پوری سکھ برادری کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سارک کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان بھی اسی وجہ سے کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مذاکرات اور دوستی کے پیغام کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر حل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ عمران خان نے تین ماہ پہلے سدھو پر بھارت میں ہونے والی تنقید پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔ پاکستان کے خلاف نفرت کا کاروبار کرنے والا بھارتی میڈیا ہر ایسے اقدام کی مخالفت کرتا ہے جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کا امکان ہو۔ عین ممکن ہے اس بار نوجوت سنگھ سدھو پر یہ تنقید بھی سننے کو ملے کہ سابق کرکٹر شروع سے ہی پاکستان کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

بھارتی میڈیا ان کی پاکستان مخالف ٹیسٹ میچوں میں کارکردگی کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ سدھو نے ٹیسٹ کرکٹ میں کل 9 سنچریاں بنائی تھیں لیکن پاکستان کے خلاف وہ اپنے کیریئر میں ایک ٹیسٹ سنچری بھی نہ بنا سکے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور دوستی کے بار بار ذکر پر پاکستان میں بھی کچھ لوگ وزیراعظم پر تنقید کر رہے ہیں مگر ہمارے خیال میں حکومت کی حکمت عملی بالکل ٹھیک ہے۔ کرتار راہداری کا سنگ بنیاد رکھ کر پاکستان نے پوری دنیا کے سکھوں کے دل جیت لیے ہیں۔

تقریب میں موجود ہزاروں سکھوں کی خوشی دیدنی تھی۔ انھیں یہ خوشی کیوں نہ ہوتی۔ بابا گرونانک کے گوردوارے تک پہنچنے کے لیے انھوں نے صرف 4کلو میٹر کا سفر پون صدی میں طے کیا ہے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے میں اتنے سال لگ گئے تو اس کا ذمے دار صرف اور صرف بھارت ہے۔ پاکستان نے تو آخری بار 13 سال پہلے یہ راہداری کھولنے کی تجویز دی تھی۔ راہداری کھولنے سے عالمی برادری کو یہ پیغام بھی گیا ہے کہ پاکستان امن کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے جب کہ بھارت امن کی تمام کوششوں کو ناکام بنانے پر تلا ہوا ہے۔

ماضی میں پاکستان پر یہ الزام بھی لگتا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں دراندازی کی جاتی ہے۔ اب دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام تر جدو جہد مقامی ہے۔ نہتے کشمیری مسلح قابض بھارتی فوج کا مقابلہ اپنی جانیں دے کر کر رہے ہیں۔ کرتار پورڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ کشمیر ڈپلومیسی میں بھی تیزی لانے کی ضرورت ہے۔

آخر میں اتنا ہی کہیں گے کہ کرکٹ میں یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کو آگے لگایا ہوا ہے، سیاست میں عمران اور سدھو نامی دو سابق کرکٹر امن دشمنوں کے چھکے چھڑا رہے ہیں۔ویلڈن یاسر، عمران اینڈ سدھو۔ ویلڈن۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں