20

پارک و رفاہی پلاٹ ماسٹر پلان کے تحت واگزار کرانے کا حکم


4 جھیلوں سے غیر قانونی تعمیرات ختم کرکے رپورٹ دی جائے ،کے ایم سی بلڈنگ اور سٹی کورٹ کی درمیانی سڑک پر تعمیرات کا نوٹس۔ فوٹو: فائل

4 جھیلوں سے غیر قانونی تعمیرات ختم کرکے رپورٹ دی جائے ،کے ایم سی بلڈنگ اور سٹی کورٹ کی درمیانی سڑک پر تعمیرات کا نوٹس۔ فوٹو: فائل

کراچی: سپریم کورٹ نے ملٹری کی زمینوں پر شادی ہالز اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے رفاہی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی زمینوں سے بھی فوری شادی ہال ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گزشتہ ماہ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا تھا جس میں اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی، اجلاس میں ملٹری لینڈ کی زمینوں پر شادی ہال اور تجارتی سرگرمیوں کو خلاف قانون قرار دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے ملٹری لینڈ پر شادی ہال اور تجارتی سرگرمیاں ختم کرنے کے احکام جاری کیے،سپریم کورٹ نے رفاہی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی زمینوں سے بھی فوری شادی ہال ختم کرنے کا حکم دیا، اجلاس کے سربراہ نے ریمارکس میں کہا کہ اسپتالوں کے لیے مختص زمینوں پر بھی شادی ہال قائم کردیے گئے ہیں ، سپریم کورٹ نے ڈی ایچ اے کے تمام فیز میں جدید لائبریریاں قائم کرنے کی ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ نے شہر کے تمام پارکوں سمیت رفاہی پلاٹوں کو ماسٹر پلان کے مطابق واگزار کرانے کا حکم دیا ہے، سپریم کورٹ نے کے ایم سی بلڈنگ اور سٹی کورٹ کی درمیانی سڑک پر تعمیرات کا بھی نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا اسی اجلاس کے بعد کراچی رجسٹری میں ہونے والے دوسرے اجلاس میں سپریم کورٹ نے کراچی کی 4 جھیلوں سے غیر قانونی تعمیرات ختم کرانے کا حکم دے دیا۔

اجلاس میں میونسپل کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن، ڈی جی کے ڈی اے سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے، اجلاس میں سپریم کورٹ نے کراچی کی تفریحی جھیلوں پر ہونے والے قبضوں کا نوٹس لے لیا، جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں 4 جھیلوں سے غیر قانونی تعمیرات ختم کرانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ شہریوں کی تفریح کے لیے مختص جھیلوں کو اصل شکل میں بحال کرایا جائے، پی سی ایچ ایس اور گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں،جسٹس گلزار احمد نے جھیلوں کو بحال کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اجلاس میں واٹر بورڈ کی زمینوں پر بھی قائم تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا گیا واٹر بورڈ کالونیوں میں بھی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جائے، سیوریج لائنوں برساتی نالوں سے الگ کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔

 





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں