23

کرپشن پر قابو پائے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا: وزیراعظم عمران خان | پاکستان


اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان حکومت کی 100 روزہ کارکردگی قوم کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

کنویشن سینٹر اسلام آباد میں حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 100 دن کا کریڈٹ بشریٰ بی بی کو دیتا ہوں، سو دن میں پہلی چھٹی ہفتے کو لی۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی پر ظلم دیکھتا ہوں تو غصہ آتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے، انسان کے ہاتھ میں صرف کوشش ہے اور نیت جو اللہ جانتا ہے، کامیابی اللہ دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 100 دن میں وہ کرنے کی کوشش کی جو راستہ ہم نماز میں مانگتے ہیں، یعنی نبی ﷺکا راستہ مانگتے ہیں، انہوں نے جو مدینے کی ریاست میں کیا۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے نبی ﷺ نے مدینہ کی ساری پالیسیز رحم پر بنائیں، عام انسان کو اوپر لانے کے لیے جو کبھی نہیں ہوا، دنیا کی تاریخ اٹھا لیں کسی ریاست میں یہ نہ ہوا جو مدینہ میں ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ساری پالیسیز کمزور طبقے کے لیے بنائی گئیں، زکوۃ پیسے والوں سے لے کر غریبوں کو دی گئیں، معذوروں، یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھا گیا، ہمارے نبی ﷺنے فیصلہ کیا کہ جو ریاست ہے اس کی ذمہ داری انسانی معاشرے میں ایک کمزور طبقے پر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے معاشرے میں کمزور نہیں رہ سکتا، جانور انسان میں فرق یہ ہےکہ انسان کے معاشرے میں رحم اور انصاف ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 100 دن میں ہم نے کوشش کی کہ جو بھی پالیسی بنے اس سے عام آدمی کو کیا فائدہ ہو گا۔

عمران خان نے بتایا کہ بھارت سے دوستی کے پیچھے یہ وجہ تھی کہ تجارت بڑھے گی۔

تعلیمی پالیسی:

وزیراعظم نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کیسے تعلیم کا نظام ٹھیک کریں، وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو مشکل سے بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک میں تین تعلیمی نظام بنائے ہوئے ہیں، ایک چھوٹی کلاس کے لیے انگلش میڈیم اسکول بنا دیئے، ہم نے تعلیمی نظام میں تفریق سے لوگوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا، کوشش ہے ایک تعلیمی نظام لے کر آئیں تاکہ غریب کے بچے پڑھ کر اوپر آئیں، جو غریب کے بچے اسکول میں نہیں انہیں لانے کا پلان بنایا ہے۔

صحت کی پالیسی:

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صحت کے نظام میں سرکاری اسپتالوں کو ٹھیک کر رہے ہیں، اسپتالوں میں دو معیار ہیں، سرکاری اور نجی، اگر پیسہ ہے تو اچھا علاج کرالیں ورنہ ہمارا نظام ایسا ہے جس میں گورنمنٹ سیکٹر پرائیوٹ سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ صحت انصاف کارڈ سب سے اہم ہے، اس پروگرام کے ذریعے خیبر پختونخوا میں بہت کامیابی ہوئی، عام آدمی کو صحت کارڈ سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ غریب گھرانے کا بجٹ ایک بیماری میں تباہ ہو جاتا ہے، اس لیے لوگوں نے اس صحت کارڈ کو بہت پسند کیا، 5 لاکھ سے زائد صحت کارڈ جاری کیے، یہ ان کے لیے برے وقت کا انشورنس ہے، سب غریب گھرانوں کو ملک بھر میں صحت کارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

غربت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایک اتھارٹی بنا رہے ہیں جس میں مختلف چیزیں کریں گے کہ غربت کیسے کم کریں۔

انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے ایک اتھارٹی بنائیں گے اور پھر غربت کا باعث بننے والی ہر چیز کو ختم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ غریبوں کے لیے فلاحی ادارے اخوت کو 5 ارب روپے دے دیئے ہیں، اس کے علاوہ غربت کو ہاؤسنگ، تعلیم اور خوراک کے منصوبوں کے ذریعے بھی ختم کریں گے۔

کرپشن کا خاتمہ

عمران خان کا کہنا تھا کہ 22 سال سے وعدہ کر رہا تھا کرپشن پر قابو پائیں گے، یہ مین پلان تھا، کرپشن غربت پیدا کرتی ہے، امیر اور غریب ملک میں کرپشن کا فرق ہے، جو امیر ملک ہے وہاں کرپشن نہیں، جہاں خوشحالی ہے وہاں کرپشن نہیں اور جن ممالک میں غربت ہے وہاں اس کی وجہ کرپشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو اللہ نے پاکستان کو دیا ہے شاید کسی ملک کو دیا لیکن ہم کرپشن کی وجہ سے پیچھے رہ گئے، 100 دنوں اداروں کے حال دیکھے، یہ ادارے صرف کرپشن کی وجہ سے تباہ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں نے پیسہ بنانا ہے تو جب تک اداروں کو تباہ نہیں کروں گا پیسہ نہیں بنا سکتا، مجھے کرپشن کے لیے ایف بی آر کو تباہ کرنا پڑے گا، اگر وہ تباہ ہوا تو ملک پیسہ اکٹھا نہیں کر سکتا۔

دوسرا اگر میں نے نیب سے بچنا ہے تو نیب صرف چھوٹے چوروں کو پکڑے گی، ایک ایک ادارے کو ان لوگوں نے پیسہ بنانے کے لیے تباہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں انداز ہونا چاہیے کہ ملک میں کس لیول کی چوری ہوئی ہے، مجھے بھی اندازہ نہیں تھا، اب تک اداروں سے پتا چل رہا ہے، ہر روز کوئی نیا انکشاف ہو جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب بڑے چوروں کی بات کرتا ہوں تو چند لوگ گلہ پھاڑ کر کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے، ان کو خوف ہے کہ پتا چلے گا کہ ان لوگوں نے کیسے لوٹا، جب تک کرپشن پر قابو نہیں پاتے ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ نیب ہمارے نیچے نہیں، ایک آزاد ادارہ ہے، نیب میں کوئی چپڑاسی بھی ہم نے بھرتی کرایا، سب پہلے کی بھرتی ہے، جو نیب کرتا ہے ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں، نیب اس سے بہت بہتر کام کر سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیب سمیت سب کو تنقید برداشت کرنی چاہیے، نیب میں سزا کا تناسب 7 فیصد ہے، جو اس سے بہت زیادہ ہونا چاہیے، نیب پلی بارگین پر انحصار کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے منشور میں لکھا تھا کہ نیب کو مستحکم کرینگے، بدقسمتی سے ابھی اس پر کوئی اختیار نہیں، اسے با اختیار نہیں کر سکے۔

ٹیکس ریفارمز:

ملک کی 21 کروڑ عوام میں سے صرف 72 ہزار ایسے افراد ہیں جو اپنی آمدن ماہانہ 2 لاکھ سے آمدن ظاہر کرتے ہیں، جس کا بوجھ پورا ملک برداشت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیکس کے نظام کو ٹھیک کرنا ہے اور اسمگلنگ کو روکنا ہے،

اسمگلنگ کی وجہ سے جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں انہیں نقصان ہو جاتا ہے اور جو ٹیکس نہیں دیتے انہیں فائدہ ہوتا ہے۔

بلیک اکانومی ہماری خوشحالی روکتی ہے، ہماری انویسٹمنٹ روکتی ہے، جسے ہم نے ٹھیک کرنا ہے۔

سیاحت:

وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا کی سالانہ آمدن سیاحت کے ذریعے 20 ارب ڈالر ہے جب کہ پاکستان کے پاس بہت بڑا ساحل موجود ہے، اس کے علاوہ ہمارے ہاں مذہبی سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، سکھوں، ہندوؤں اور بدھ مت کا سب سے بڑا مجسمہ بھی پاکستان میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے شمالی علاقہ جات میں سوئٹزرلینڈ سے زیادہ پہاڑ موجود ہیں، دنیا کے بڑے پہاڑوں میں سے 6 ہمارے شمالی علاقہ جات میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پختونخوا میں 2013 سے 2018 تک غربت آدھی ہو گئی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ سیاحت ہے۔

لیگل ریفارمز:

عمران خان کا کہنا تھا کہ سول پروسیجر کورٹ کو بدلنا چاہتے ہیں، اس نظام کے تحت عدالتوں کو ایک سے ڈیڑھ سال کے اندر فیصلہ کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی قانون لا رہے ہیں جس کے ذریعے بیواؤں کو تیز تر انصاف ملے گا اور خواتین کو ان کا قانونی حق ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانیوں کے لیے بھی قانون سازی کر رہے ہیں، جو یہاں گھر خریدتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو ان کے گھروں پر قبضے ہو جاتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لیگل ایڈ اتھارٹی بنا رہے ہیں جس کے تحت غریب آدمی کے لیے وکیل حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ وسل بلور ایکٹ بھی لا رہے ہیں جس کے تحت کوئی بھی کسی ادارے میں کرپشن کی نشاندہی کرے گا تو اس کو ریکوری کا 20 فیصد دیا جائے گا اور حکومت اس شخص کا نام بھی صیغہ راز میں رکھے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا تنخواہ دار اور نچلا طبقہ تکلیف میں ہے، قیمتیں بڑھنی ہی تھیں اور مجھے اس چیز کا احساس ہے، جتنی کوشش کر سکتے ہیں ہم کر رہے ہیں، ساری وزارتوں کو کہا کہ پیسے بچائیں، گورنر کے پی کے شاہ فرمان نے اب تک 13 کروڑ اور میں نے 15 کروڑ روپے بچائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ مذاق کر رہے ہیں کہ ہم نے بھینس فروخت کر دی، یہ بھینس بیچنے کی بات نہیں بلکہ عوام کے پاس کھانے کو پیسہ اور رہنے کے لیے رہائش بھی نہیں ہے، ہمیں ڈر ہے کہ ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن آگے آنے والے دن آسان نہیں مشکل ہیں، 10 سالوں میں قرضہ 6 ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے ہو گیا تو قرضہ واپس تو کرنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ایک مشکل وقت ہے لیکن یقین دلاتا ہوں کہ جس طرح سے بیرون ملک سے سرمایہ کار یہاں آ رہے ہیں، لوگوں کو پتا ہے کہ یہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے، پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ہے اور حکومت کرپٹ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ اسکیم کی راہ میں حائل رکاؤٹیں دور کی جا رہی ہیں، اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے اور گھر اس لیے نہیں بنے کہ گھروں کے لیے جو قرضہ چاہیے وہ پاکستان میں دستیاب ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہاؤسنگ سے 40 صنعتیں براہ راست متاثر ہوتی ہیں، اسکیم سے سارے معاشرے میں روزگار ملے گا۔

آئی ایم ایف سے جو بھی معاہدہ ہوگا قوم کے سامنے لائیں گے: اسد عمر

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مشکلات ضرور ہیں لیکن عمران خان کے وژن کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 100 دن کے منصوبے میں سمت کا تعین کیا گیا، 100 روز میں وزیراعظم نے سب سے زیادہ یہ پوچھا کہ بتاؤ غریبوں کے لیے کیا کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں ماہانہ دو ارب ڈالر کا بیرونی خسارہ ہو رہا تھا جو اب ایک ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ جب حکومت ملی تو بجٹ خسارہ 2300 ارب ڈالر تھا، حکومت ملنے سے پہلے تین ماہ میں 9 ارب ڈالر خسارہ تھا، عام آدمی پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا، امیروں پر ٹیکس لگایا گیا۔

اسد عمر نے کہا کہ دو سال پہلے پتا چلا کہ اسٹیل مل کے ریٹائرڈ ملازمین کی بیواؤں کی پنشن کو روکا گیا ہے، ہم ان بیواؤں کا قرض ادا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب قوم کی بہتری کے لیے یوٹرن لینا ہو تو وزیراعظم یوٹرن لینے کے لیے تیار ہیں، آج کے اپوزیشن لیڈر کہتے تھے کہ فلاں کا پیٹ پھاڑ کر پیسا نکالوں گا، سڑکوں پر گھسیٹوں گا، آج یہ اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ وہ میرے بھائی ہیں یہ ہوتا ہے یوٹرن۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا پیٹ کاٹنے،کھمبے سے لٹکانے والےکو بھائی کہنا یوٹرن نہیں چوری کو بچانے کے لیے ہے، ماضی میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے بھائی بن گئے، کیا یہ یوٹرن نہیں؟

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے پیچھے نہیں چھپیں گے، آئی ایم ایف سے جو بھی معاہدہ ہوگا قوم کے سامنے لائیں گے، لوگ پوچھتے ہیں یہ سب کرنے کے لیے پیسا کہاں سے آئے گا، اس کے لیے ملک کی معیشت میں 6 ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گنجائش پیدا کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کمزور طبقے کو پیچھے چھوڑ کر معاشہر ترقی نہیں کر سکتا، 5 سال میں ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔

اسد عمر نے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان ناکام ہو ہی نہیں سکتا، یہ ملک اللہ کا انعام ہے، قائداعظم کی کاوش اور علامہ اقبال کا خواب ہے۔

 سو روز میں 36 میں سے 18 اہداف حکومت نے حاصل کیے: ارباب شہزاد

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد ارباب کا کہنا تھا کہ 36 میں سے یہ 18 اہداف حکومت نے 100 دن میں حاصل کیے ہیں۔

انہوں نے کہا پانی کے تحفظ اور خوارک کے تحفظ کے لیے بنیادی کردار ادا کریں گے، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کو ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل پروٹیکشن پروگرام وزیراعظم کے دل کے بہت قریب ہے، یہ پروگرام حکومت کے فلیگ شپ پروگرام میں سے ایک ہو گا اور اس پروگرام سے دو کروڑ افراد کو غربت سے نجات ملے گی۔

بلین ٹری سونامی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد ارباب کا کہنا تھا کہ 10 بلین ٹری سونامی، دیگر ممالک میں سب سے بھرپور شجرکاری مہم ہے، اس مہم کے ذریعے پانچ سال میں ملک بھر میں 10 بلین درخت اگائے جائیں گے۔

جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کا تحریک انصاف نے نہ صرف وعدہ بلکہ عزم بھی کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 30 جون 2019 سے پہلے جنوبی پنجاب کے لیے الگ سیکریٹریٹ بنا دیا جائےگا۔

شہزاد ارباب نے مزید بتایا کہ جنوبی پنجاب کے لیے الگ ایڈیشنل سیکریٹری اور ایڈیشنل آئی جی تعینات ہوں گے اور جنوبی پنجاب کے لیے الگ سالانہ ترقیاتی پروگرام ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ فاٹا کا مرحلہ وار انضمام ابھی جاری ہے، فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کو حتمی شکل دے رہے ہیں جب کہ قبائلی اضلاغ میں تیز رفتار ترقی کے لیے پروگرام پر آئندہ دو ماہ میں کام شروع ہوجائے گا۔

شہزاد ارباب کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجتھے ہیں اور بلوچستان کے عوام کی اجنبیت کا احساس ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی قیادت سے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم اپنے خطاب کے دوران قوم کو سادگی و کفایت شعاری مہم، نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے،گورننس، معاشی بہتری اور عام آدمی کے مسائل کے حل کے لیے کیے گئے حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں گے۔

وزیراعظم مختلف ٹاسک فورسز کی کارکردگی پر بھی بات کریں گے، صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور خارجہ پالیسی میں بہتری کے اقدامات سے بھی قوم کو آگاہ کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے قیام کے 100 روز پورے ہوگئے ہیں اور  وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور وزراء نے اپنے اداروں اور محکموں کی رپورٹس وزیراعظم کو پیش کردیں جس پر انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ملک کی ترقی کی سمت کا تعین کردیا ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معیار زندگی بلند کرنے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے گی۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں