15

کپتان جی‘ یہ مماثلت ٹھیک نہیں


ayazkhan@express.com.pk

[email protected]

کپتان کی حکومت کی اب تک کی کارکردگی نے 1992ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کی یاد دلا دی ہے۔ ٹورنامنٹ شروع ہوا تو ہماری ٹیم کی کارکردگی اتنی خراب تھی کہ قوم مایوس ہونا شروع ہو گئی تھی۔ ٹیم پر تنقید کے نشتر برسائے جا رہے تھے۔ کپتان کی صلاحیتوں پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ نالائق ترین کھلاڑیوں پر مشتمل ایک ایسی ٹیم ہے جو قوم کی امیدوں کو چکنا چور کر کے خالی ہاتھ لوٹ آئے گی۔

آسٹریلیا میں 22 فروری1992ء کو شروع ہونے والے اس عالمی کپ کا آغاز پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 23 فروری کو 10 وکٹوں کی شکست سے کیا تھا۔ چار دن بعد زمبابوے کے خلاف میچ میں 53 رنز سے فتح سمیٹی اور پھر ٹیم بھارت اور جنوبی افریقہ سے ہار گئی۔ ان دو میچوں سے پہلے انگلینڈ کے خلاف ہونے والے میچ میں پوری ٹیم 74 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ جب شکست یقینی نظر آ رہی تھی تو بارش مدد کرنے آگئی‘ میچ بے نتیجہ ختم ہوا اور پاکستان کو مفت میں ایک پوائنٹ مل گیا۔

پاکستان کو ملنے والا یہ ایک پوائنٹ آگے چل کر اسے سیمی فائنل میں رسائی کی وجہ بن گیا۔ پہلے پانچ میچوں میں سے صرف ایک میچ جیتنے والی ٹیم میزبان آسٹریلیا کے خلاف میدان میں اتری تو مبصرین آسٹریلیا کی جیت کو یقینی قرار دے رہے تھے۔ پاکستان یہ میچ 48 رنز کے مارجن سے جیت گیا تو ایک موہوم سی امید پیدا ہوئی۔ اس کے بعد سری لنکا جیسے آسان حریف کو 4  وکٹ سے مات دینے والی ٹیم کاآخری مقابلہ ٹورنامنٹ کی موسٹ فیورٹ ٹیم نیوزی لینڈ سے تھا۔ کیویز تمام میچ جیت کر ٹاپ پر تھے۔

انگلینڈ کی دوسری اور جنوبی افریقہ کی تیسری پوزیشن تھی۔ اس ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق ہر ٹیم کو اپنی مخالف ٹیم کے ساتھ ایک میچ کھیلنا تھا۔ سیمی فائنل تک پہنچنے کے لئے بہترین ٹیم ہونا ضروری تھا۔ ماہ رمضان میں ہونے والا یہ ٹورنامنٹ پوری قومی کی دعائوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ پاکستان انگلینڈ سے ہار جاتا تو یقینی طور پر ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتا۔ قسمت نے یاوری کی اور بارش نے وہاں ایک پوائنٹ دلوا دیا۔

نیوزی لینڈ کے خلاف آخری میچ میں جیت کی کوئی امید ہی نہیں تھی لیکن ٹورنامنٹ کی ٹاپ ٹیم محض 166 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی۔ وسیم اکرم نے کیویز کے چار کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ بیٹنگ میں رمیز راجہ سنچری بنا گئے۔ پاکستانی ٹیم گرتے پڑتے سیمی فائنل میں تو پہنچ گئی تھی لیکن مقابلہ ایک بار پھر نیوزی لینڈ سے تھا۔ کیویز نے پہلے کھیلتے ہوئے 262 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔ اس دور میں اتنا بڑا ٹارگٹ حاصل کرنا ممکنات میں نہیں سمجھا جاتا تھا۔

پاکستان کو اس ناممکن کو ممکن بنانا تھا۔ اوپنر رمیز راجہ اور ون ڈائون پوزیشن پر آنے والے عمران خان نے 44، 44 رنز بنا کر سہارا دیا۔ جاوید میانداد کے 57 رنز نے جیت کی اُمید بڑھائی مگر یہ نوجوان بیٹسمین انضمام الحق تھے جنہوں نے صرف 37 گیندوں پر 60 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل ڈالی۔ یہی اننگز پاکستان کی کشتی کو پار لگا گئی۔ نیوزی لینڈ چار وکٹ سے ہار گیا۔ پاکستان فائنل میں پہنچ چکا تھا۔ میلبورن میں کھیلا جانے والا فائنل کون بھول سکتا ہے۔

کپتان 72، جاوید میانداد 58 نے مضبوط بنیاد رکھ دی۔ انضمام الحق نے ایک بار پھر 35 گیندوں پر 42 رنز بنا کر ٹیم کا سکور 249 تک پہنچا دیا۔ انگلینڈ کی ٹیم 227 رنز بنا سکی۔ ایلن لیمب اور کرس لیوئس کو وسیم اکرم نے یکے بعد دیگرے آئوٹ کر کے فارغ کر دیا۔ وہ لمحہ ہماری جنریشن کا کوئی شخص کیسے بھول سکتا ہے جب انگلینڈ کے آخری بیٹسمین کو کپتان نے رمیز راجہ کے ہاتھوں کیچ آئوٹ کرایا اور پہلی اور تاحال آخری بار ورلڈ کپ ہمارا ہو گیا۔

عالمی کپ کے لئے ٹیم کی سلیکشن بھی عجیب تھی۔ وقار یونس اَن فٹ ہو کر باہر ہو چکے تھے۔ جاوید میانداد کمر درد کی وجہ سے اوریجنل ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے۔ وہ بعد میں ٹیم کا حصہ بنے۔ انضمام الحق نے ورلڈ کپ شروع ہونے سے صرف تین ماہ پہلے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ ورلڈ کپ شروع ہوتے ہی پاکستان میں ہر طرف مایوسی پھیلنے لگی۔ پاکستانی ٹائیگرز کو شکستوں کا سامنا تھا۔ ہر طرف مایوسی چھائی ہوئی تھی۔

پاکستان کے ابتدائی رائونڈ میں ہی باہر ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے تھے۔ آخر میں حالت یہ تھی کہ پاکستان نیوزی لینڈ کو ہرائے جو اس سے پہلے تک ناقابل شکست تھی اور آسٹریلین ٹیم ویسٹ انڈیز کو آخری میچ میں شکست سے دوچار کرے تو پاکستان سیمی فائنل میں پہنچے گا۔ اس آخری نتیجے کی وجہ سے آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے 8‘8 پوائنٹس ہو گئے اور یوں پاکستان بارش کے باعث انگلینڈ کے خلاف ایک پوائنٹ ملنے کی وجہ سے سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔

موجودہ حالات پر غور کریں تو وہ 92ء کے ورلڈ کپ کے آغاز سے مختلف نظر نہیں آتے۔ وہی چھتیس سال پہلے جیسی مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ پٹرول اور ڈالر مہنگا ہونے سے مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں مندی ہے۔ بات دعوئوں اور وعدوں سے آگے نہیں بڑھ پائی۔ کپتان کی ٹیم ہدف تنقید بنی ہوئی ہے۔ حکومتی پالیسیوں کا دفاع کرنے کے لیے تیسرا وزیر نہیں ملتا۔ وہ لوگ جو بڑی امیدوں سے ووٹ دے کر اس ٹیم کو اقتدار میں لائے تھے وہ اس  پر اعتماد کرناچاہتے ہیں مگر نہیں کر پا رہے۔ حکومتی ٹیم بھی امیدوں پر پورا اترنے والی نہیں لگ رہی۔

اپوزیشن طعنے دے رہی ہے کہ یہ ٹیم ملک نہیں چلا سکتی۔ سب سے زیادہ تنقید وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر ہوتی ہے۔ انہیں ناتجربہ کاری کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ 92ء کے عالمی کپ کی ٹیم میں انضمام نیا کھلاڑی تھا۔ کسی کو اُمید ہی نہیں تھی کہ وہ سیمی فائنل اور فائنل میں اتنا عمدہ کھیلے گا کہ ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کر سکے گا۔ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد کپتان کا وہ انتخاب درست ثابت ہوا۔

کپتان آج عثمان بزدار کی حمایت کرتے ہوئے انہیں وسیم اور وقار یونس قرار دیتا ہے۔ اینکرز کے ساتھ انٹرویو میں وزیراعلیٰ کو وسیم اکرم پلس تک قرار دے دیا۔ میرے خیال میں عثمان بزدار وسیم اکرم ہیں نہ وقار یونس۔ کچھ لوگ انہیں منصور اختر قرار دیتے ہیں۔ وہی منصور اختر جو کپتان کو بہت پسند تھے مگر ضرورت سے زیادہ چانسز ملنے کے باوجود وہ انٹرنیشنل لیول پر پرفارم نہیں کر سکے۔

میرے خیال میں عثمان بزدار کی وسیم اور وقار سے مماثلت ٹھیک نہیں ان کی اگر کسی کرکٹر سے مماثلت بنتی ہے تو وہ انضمام الحق ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 92ء کے نوجوان انضمام کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا۔ آج کا عثمان بزدار بھی جنوبی پنجاب سے ہے۔ انضمام نے ورلڈ کپ سے تین ماہ پہلے کپتان کی ٹیم جوائن کی تھی عثمان بزدار نے بھی الیکشن سے تین ماہ پہلے کپتان کی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ نوجوان انٹرنیشنل لیول پر ناتجربہ کار ہونے کے باوجود پرفارم کر گیا تھا۔ دیکھتے ہیں آج کا انضمام یعنی عثمان بزدار کیسی پرفارمنس دیتا ہے؟

یہ پرفارمنس حکومت کی نیک نامی یا بربادی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اللہ کرے عثمان بزدار انضمام الحق ثابت ہو کیونکہ ایک اور منصور اختر کپتان افورڈ نہیں کر سکتا۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں