4

آٹا ، سناٹا اور گھاٹا


بازار کی بنی روٹی کھانا آسان نہیں ہے۔ تنور سے نکلنے کے پانچ منٹ بعد روٹی کھائی جائے تو یوں لگتا ہے جیسے ربڑ چبا رہے ہیں ۔ لُقمہ نگلنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اسے ہضم کرنا دشوار تر۔ صرف ایک روٹی کھانے کے بعد جبڑے دُکھنے لگتے ہیں۔ اس عذاب سے بچنے کے لیے، گندم کی کٹائی کے وقت ہی، مَیں تو ہر سال گاؤں سے سال بھر کے لیے اپنی گندم لے آتا ہُوں۔

شہر میں رہتے ہُوئے گندم کی پسائی بھی مگر آسان نہیں ہے۔ ہم نے بچپن میںخواتین کو پسائی سے پہلے گندم کی محنت اور باریک بینی سے صفائی کرتے ہُوئے دیکھا ہے۔ چھاج سے بھی گندم کو چھاننا اور پھٹکنا۔ اُس وقت سبھی گھروں کا یہی کلچر تھا۔ پھر یہ صاف ستھری گندم پیسنے کے لیے چکّی پر لے جائی جاتی۔ لگتا تھا کہ یہ تو آسان سا کام ہے مگر اب جب خود اس پراسیس سے گزرنا پڑا ہے تو معلوم ہُوا کہ برسوں قبل بظاہر آسان سا لگنے والا یہ کام اتنا آسان اور سہل نہیں ہے ۔

ہماری اہلیہ نے زندگی بھر چھاج نہیں دیکھا۔ پھر اسے پھٹکے گی کیسے؟ چھاج میں مطلوبہ مقدار میں گندم ڈال کر پھٹکنا نہایت مہارت کا اور ٹیکنیکل کام ہے۔ یہ تجربہ مانگتا ہے اور یہ تجربہ ہماری گھر والی کے پاس نہیں ہے؛ چنانچہ گاؤں سے لائی جانے والی گندم کی صفائی کے لیے ہر بار ایک مزدور خاتون کی خدمات لی جاتی ہیں۔ تب مَیں اسے  چکّی پر لے جاتا ہُوں۔ یوں اس آٹے سے تیار ہونے والی روٹی نرم ہونے کے ساتھ ساتھ آسانی سے ہضم بھی ہو جاتی ہے۔ مَیں تو برسوں سے ایک ہی چکّی پر آٹا پسوانے جاتا ہُوں۔ آجکل گندم پیسنے والا ساڑھے چار روپے فی کلو چارج کرتا ہے۔ کچھ ہی سال پہلے یہ چارجز ڈیڑھ روپے فی کلو تھے۔ گندم کی پسائی کے تیزی سے بڑھتے داموں ہی سے اندازہ لگائیے کہ مہنگائی نے کیسے زقندیں بھری ہیں!

ہمارے محبوب خانصاحب کے سولہ، سترہ مہینوں کے اقتدار میں یہ مہنگائی  عوام کی کمر توڑ رہی ہے۔ ابھی پچھلے مہینے ٹماٹر ساڑھے تین سو روپے فی کلو خریدنے کا عذاب سہا ہے۔ اور اب آٹے اور چینی کی نایابی اور ان کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ مزید کمر شکن ہی نہیں، ہمت شکن بھی ہے۔ ہر طرف ہاہا کار مچی ہُوئی ہے۔ مہنگا آٹا ہر جانب سناٹا پیدا کر رہا ہے۔ یہ سناٹا خوف کی علامت ہے۔ آٹے کی قیمت میں اچانک 6 روپے فی کلو کا اضافہ ہُوا۔ بازار میں70 روپے فی کلو بھی بِکا ہے۔

پہلے یہ 64 روپے فی کلو ملتا تھا۔ آٹا بحران نے بگولے کی طرح سر اُٹھایا۔ ا ب تو لاہور ہائیکورٹ نے بھی مبینہ طور پر آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کیس کی سماعت پر وفاقی اور پنجاب حکومت کو نوٹس  جاری کرتے ہُوئے طلب کر لیا ہے ۔پوچھا جانا چاہیے کہ آٹے کا یہ بحران کس نے پیدا کیا؟ کیسے پیدا ہُوا؟ حکومت میں تو کوئی بھی ذمے داری قبول کر رہا ہے نہ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ آٹا مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔ کمال ہے۔ خبر نشر کی گئی ہے کہ خانصاحب نے مہربانی کرتے ہُوئے آٹے مہنگا ہونے پر نوٹس لے لیا ہے۔ اگر آٹا مہنگا فروخت نہیں ہو رہا تو پھر وزیر اعظم نے نوٹس کس بات کا لیا ہے؟ ۔

’’مسرت‘‘ اور ’’ اطمینان‘‘ کی بات یہ ہے کہ آٹے کی نایابی اور قیمتیں بڑھنے پر اپوزیشن قیادت کے بھی کچھ لوگ ’’مضطرب‘‘ ہو کر اپنی کچھاروں سے باہر نکلے ہیں ۔ وگرنہ عوام تو اپوزیشن کے حالیہ کردار سے یہی سمجھی تھی کہ اسے اپنی بے پناہ دھن دولت اور لاتعداد جائیدادیں بچانے ہی کی فکر لاحق رہتی ہے۔

پیپلز پارٹی کی ایک امیر خاتون سینیٹر، جنہوں نے شائد کبھی خود آٹا نہیں خریدا، نے بھی کہا ہے کہ ’’نااہل حکومت آٹا مہنگا کر کے عوام کے منہ سے نوالہ چھین رہی ہے۔‘‘ نادار اور غریب عوام کے دُکھوں پر ’’ احتجاج کناں‘‘ اس خاتون کے اس بیان پر غریب عوام شکریہ ادا کرتے پائے گئے ہیں۔ امیرِ جماعتِ اسلامی قبلہ سینیٹر سراج الحق نے بھی ’’سونامی‘‘ والوں کو پرانی یاد دہانی کرواتے ہُوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’آٹے کی قیمت سُن کر ہر کوئی سناٹے میں ہے۔ سونامی والے اب غریب عوام کو روٹی کے ٹکڑے سے بھی محروم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ آج بروز جمعہ مہنگے آٹے اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں۔ اللہ خیر کرے۔

ہم عوام کالانعام کو سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ حکمران اور ہر قسم کے عمالِ حکومت خود تو ہر ممنکہ اور متنوع قسم کی سرکاری اور بھاری مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن مبینہ معاشی بدحالی کا پشتارہ عوام کی کمر پر ہر روز کیوں لادا جا رہا ہے ؟ آٹا مہنگا کرنے والوں کی آوازیں مضبوط اور توانا ہیں جب کہ حکومت کی وضاحتی آواز نحیف اور ناکام۔ جنہوں نے آٹے کا خوفناک بحران پیدا کیا ہے، حکومت نے آن دی ریکارڈ کسی کو ابھی تک سزا دی ہے نہ عبرت کا نشان بنایا ہے ۔

آٹا چکی اونرز ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ ’’ گندم کی قیمت میں تین سو سے ساڑھے چار سو روپے فی من اضافہ ہو چکا ہے، اور اب گندم کی قیمت 2200 روپے فی من ہو چکی ہے، ہم آٹا 70 روپے فی کلو سے کم قیمت پر کیسے فروخت کریں؟‘‘۔ حکمران کہتے ہیں: ’’ گندم کی قیمت2200 روپے فی من کا دعویٰ غلط ہے۔ گندم کی قیمت میں 120 روپے فی من کمی کی جا چکی ہے۔‘‘ عوام کو کنفیوژن میں مبتلا کر کے سبھی فریق اپنے اپنے مفادات سمیٹ رہے ہیں۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ چکی مالکان آٹا 45 روپے فی کلو بیچنے پر راضی ہو گئے ہیں لیکن عوا م تک اس اعلان کا عملی فیض ابھی تک نہیں پہنچا۔ پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!

عوام اور حکومت کے اوسان خطا کرنے کے لیے نانبائیوں نے بھی طبل بجا رکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر حکومت نے ہمیں روٹی اور نان کی قیمت میں دو سے تین روپے اضافہ کرنے کی فوری اجازت نہ دی تو پورے ملک میں ہڑتال کر دیں گے۔ نانبائی ایسوسی ایشن کے صدر کہتے ہیں: ’’حکومت نے آٹے کی بوری میں 500 روپے اور میدے کی بوری میں 800 روپے اضافہ کر رکھا ہے۔ ایسے میں ہم روٹی اور نان کی موجودہ قیمتیں کیسے اپنی جگہ برقرار رکھ سکتے ہیں؟ حکومت ذرا پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں کو بھی سامنے رکھے اور پھر ہم پر دباؤ ڈالے ۔‘‘ یہ صاحب کہتے تو بجا ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر آٹا لَد کر تنوروں پر پہنچتا ہے۔ گیس جلنے سے روٹی اور نان پکتے ہیں۔ بجلی کی روشنی میں روٹی فروخت ہوتی ہے ۔ اگر ان تینوں چیزوں کی قیمتیں بے قابو ہیں تو روٹی و نان کی قیمتیں کیسے حکومت کی مرضی کے مطابق قابو میں رہ سکتی ہیں؟

سونامی والے یہ حکمران آٹے اور مہنگائی میں اضافے پر قابو نہ پا کر گھاٹے کا سودا کر رہے ہیں۔ بد اعتمادی کا سودا۔ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ بھی ناک میں دم کر رہا ہے۔ یہ ’’شوق‘‘ بھی مہنگائی کا ایک سبب ہے۔ پُروقار مزاح نگار سید ضمیر جعفر ی نے ایک بار کہا تھا: ’’شوق سے لختِ جگر، نُورِ نظر پیدا کرو/ظالمو! تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو۔‘‘ اب 22 کروڑ کی شکل میں ’’نُورِ نظر‘‘ تو پیدا ہو چکے ہیں لیکن شائد مطلوبہ مقدار میں گندم پیدا نہیں کی جا سکی ہے۔ غریب بیچارہ آ جا کر صرف روٹی ہی اپنے بچوں کو کھلا سکتا ہے۔

باقی لوازمات تو اُس کی دسترس سے بہت دُور جا چکے ہیں۔ کیا یہ ستم نہیں ہے کہ حکمران وہ سادہ روٹی بھی سہل انداز میں عوام کو فراہم کرنے سے قاصر ثابت ہو رہے ہیں جس کی قیمت خود عوام ادا کر رہے ہیں؟ گندم کے گڑھ پنجاب میں بھی گندم کے آٹے کی دستیابی دشوار؟ پھر عوام کی انگلیاں حکمرانوں کی طرف کیوں نہ اُٹھیں؟ جس وقت وزیر اعظم عمران خان اُدھر ڈیووس (سوئٹزر لینڈ) میں پاکستان کو خوشحال بنانے کا مقدمہ لڑ رہے تھے ، عین اُسی وقت اِدھر پاکستان میں آٹے کی عدم دستیابی قیامت برپا کر رہی تھی۔ چہ عجب!!





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں