4

لیبیا کی تاریخ – ایکسپریس اردو


کفار و مشرکین کل تھے آج بھی ہیں، ہم نے کیا کھویا کیا پایا، ستم بالائے ستم ان مسلمانوں کے نصیب میں آتا رہا جوکفار سے نبرد آزما رہے۔ کاسائے گدائی کسی کے آگے نہیں کیا ، جدوجہد ، حق گوئی، جفا کشی پرکامیابی قدم چومتی رہی۔

آج بھی نشانیاں موجود ہیں ، مٹانا چاہا نہ مٹا سکے ان پر کبھی اعتبار و یقین نہیں کیا جاسکتا ، جن کی مکاری ، عیاری وچالبازی نے مسلمانوں کو لڑایا اپنی برتری حاصل کی بڑی مثالیں موجود ہیں۔ تحریر کرنے پر آجاؤں تحریر کرتا رہوں گا لیکن حق وصداقت کی داستان ختم نہ ہوگی۔ میں بات لیبیا کی کر رہا ہوں۔

1974 میں جب اسلامی ممالک کی اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں دیگر اسلامی ممالک کے علاوہ لیبیا کے کرنل معمر قذافی نے بھی شرکت کی ، انھوں نے لاہور اسٹیڈیم میں ایک تاریخی خطاب کیا۔ کرنل معمر قذافی نے اپنے اس خطاب میں واضح طور پر پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے حق کی حمایت کی اور جوہری تنصیبات کے لیے پاکستان کو خفیہ مدد بھی کی۔ اس کے بعد پاکستان نے کرنل معمر قذافی کے نام پر لاہور اسٹیڈیم کا نام تبدیل کر کے قذافی بین الاقوامی اسٹیڈیم رکھ دیا تھا۔

اس کے چند ہی سال بعد میرا لیبیا جانے کا اتفاق ہوا ، کرنل معمر قذافی کا خوشحال دور تھا۔ عوام خوشحال فارغ البال تھے ، طرابلس جاتے ہوئے نواح میں سرخ انارکے جا بجا درخت باغات تھے۔ لیبیا سرسبز و شاداب ، پٹرولیم، گیس، سونا، لوہا، المونیم، تانبہ، اسٹیل صنعتیں موجود تھیں۔ اس وقت تعلیم کی شرح 89 فیصد تھی مگر موجودہ رپورٹ کے مطابق کم ہوتی جا رہی ہے۔ کرنل معمر قذافی کے قتل کے بعد جب میں لیبیا گیا تو حالات و واقعات یکسر تبدیل تھے۔ عوام بد حال وہ خوشحال ماضی میں ختم نظر آئی بے روزگاری بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی۔ آگے تفصیل بیان کروں گا پہلے لیبیا کا محل وقوع تحریرکرتا چلوں درج ذیل ہے۔

لیبیا مغربی افریقہ کا چوتھا بڑا ملک ہے، شمال میں بحیرہ روم ، مشرق کی جانب مصر، جنوب مشرق میں سوڈان ، جنوب میں چاڈ اور نائیجیریا، مغرب میں تیونس اور الجیریا یعنی الجزائر واقع ہے۔ ملک کی 57 فیصد آبادی مسلمان ہے، (اعشاریہ سات) فیصد مسیح لوگ آباد ہیں، صفر اعشاریہ تین فیصد بدھ ازم کے ماننے والے (بدھسٹ) جب کہ بقیہ ایک فیصد دیگر مذاہب کا مجموعہ ہیں۔ ملک کی قومی اور سرکاری زبان عربی ہے لیکن ملک کے اندر زیادہ تر لیبین عربی کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے جو جدید عربی سے تھوڑی مختلف ہے۔ دیگر زیادہ بولی جانے والی زبانیں بربری، ناموسی، سکھ، کادمی اور نماسک زبانیں اہم ہیں۔ تری بولی جسے عربی زبان میں طرابلس کہا جاتا ہے۔ طرابلس بڑا شہر ہونے کے ساتھ قدیم ترین شمارکیا جاتا ہے جہاں آج لیبیا کی 17 لاکھ سے زائد آبادی آباد ہے۔ ایک لبنان میں بھی طرابلس نام کا شہر ہے اسی لیے لیبیا کے طرابلس کو طرابلوکہا جاتا ہے۔ لیبیا کے اہم ترین شہر بین غارا ، مستارا ، البیزہ ، خنس اور زاویا شہر ہیں۔

شمال کا ایک اسلامی ملک لیبیا کے قدیم زمانے میں یونانیوں نے شمالی افریقہ کا نام دیا تھا۔ ہزاروں سال قدیم اس ملک میں آج بھی وہ تمام آثار موجود ہیں جو کسی ملک کی تاریخ کا پتہ دیتے ہیں۔ لیبیا کا نام جب بھی آتا ہے تو ذہن میں کرنل معمر قذافی کا نام دوڑنے لگتا ہے امریکا ، برطانیہ اور چند ایک یورپی ممالک کرنل قذافی کے نام سے خائف تھے۔

کرنل معمر قذافی کے دور میں لیبیا میں بر وقت سبزہ ہوا کرتا تھا۔ حالات نے رنگ بدلا تبدیلیوں کی وجہ سے خطے کا نقشہ ہی بدل گیا اس ملک میں گیارہ لاکھ کلومیٹر سے زیادہ رقبہ صحراؤں پر مشتمل ہے یہ اسی صحرا کا حصہ ہے جسے سہارا ریگستان یا سمرہ اعظم بھی کہا جاتا ہے۔ کیا قہر نازل ہوا جو یہاں کی ہریالی کو اپنے ساتھ لے گیا۔ یہاں آٹھ ہزار قبل مسیح کی زندگی کے آثار ملے ہیں مگر پھر آنے والی پانچ صدیوں تک اس خطے سے آبادی بالکل ختم ہوگئی۔ دوسری بار وہاں وہی لوگ جنوب کی جانب سے آکر آباد ہوئے جنھوں نے مراکش میں آبادکاری کی آج بھی وہی نسل مراکش میں آباد ہے۔

لیبیا میں میں آبادکاری کرنے والے قبیلے میں بربر قبیلے کا نام آج بھی لیا جاتا ہے۔ یہ وہی قبیلہ ہے جس نے آگے چل کر تاریخ اسلام کو طارق بن زیاد جیسا بیٹا دیا تھا۔ بربر قبیلے کے یہاں آباد ہونے کے بعد فارسی بھی قدیم ایرانی سلطنت کا یہاں قبضہ ہوگیا۔ سکندر اعظم پھر یہ لوگ مصری حسینہ قلو پطرہ کے قبضے میں چلا گئے۔ قلوپطرہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد رومیوں نے اس ملک پر قبضہ کیا۔ پانچویں صدی عیسوی میں رومیوں سے جنم لینے والی بازنطینی حکومت قائم ہوگئی۔

647عیسوی میں حضرت عمرؓ کی قیادت اور حضرت عبداللہ بن سعد کی سپہ سالاری میں مسلم فوج نے یہاں کے تاریخی شہر طرابلس پر فتح کا پرچم بلند کیا۔ لیبیا کے جنوبی علاقے فزان کی فتح حضرت عقبہ بن نافہؓ کے ہاتھوں 663 عیسوی میں ہوئی۔ بعدازاں بربر قبائل نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ خلافت امیہ کے دور میں پورے لیبیا پر اسلامی پرچم لہرا چکا تھا۔ خلافت عباسیہ کے دور حکومت میں اس خطے کو مزید استحکام ملا ۔ خلیفہ ہارون الرشید نے لیبیا کو پورے طریقے میں مضبوط ترین بنا دیا۔ خلافت عثمانیہ چونکہ مسلمانوں کی ایک قائم کردہ سلطنت تھی۔ عثمانیہ کے لیبیا میں داخلے سے پہلے خلیفہ ہارون الرشید کی بنائے ہوئے ملکی انتظامات کی وجہ سے کسی دوسری سلطنت کو ہمت نہ ہوسکی کہ لیبیا کو مات دے سکے۔

عثمانی جب لیبیا پر قابض ہوئے تو اس ملک نے مزید ترقی کی عثمانیوں کے آخری دور حکومت میں جب اسلامی سلطنت انتشار کا شکار ہوئی، اس نے جنگ عظیم اول میں کود جانے کا فیصلہ کیا تو یہ برا وقت تھا جب لیبیا میں تقریباً 13 سو سال بعد کوئی غیر مسلم ملک قابض ہونے لگا تھا۔ کیونکہ اٹلی اور عثمانی حکومت کی 1912 عیسوی میں ہونے والی جنگ میں عثمانی حکومت لیبیا کو اپنے ہاتھوں سے کھو چکی تھی۔ اٹالین حکومت لیبیا پر قابض ہوگئی۔ اٹلی نے تقریباً 31 برس تک حکومت کی۔ آزادی کا جذبہ اٹلی ختم نہ کرسکا عمر مختیار نے لیبین کو آزادی پر ابھار دیا عمر مختیار کو پھانسی دے دی گئی لیکن لیبیا سے آزادی کی جدوجہد کو ختم نہ کیا جاسکا۔ وہاں کی قوم نے عمر مختیارکی شہادت کو ضایع ہونے نہیں دیا بلکہ اس مجاہد کی شہادت کے بعد تحریک آزادی زور پکڑ گئی۔

1940 میں دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہو چکا تھا جس میں ہونے والی اٹلی کی شکست لیبیائی عوام کے لیے نوید مسرت بن کر آئی۔ 1943 میں لیبیا اٹلی سے مکمل طور پر آزاد ہو کر اتحادی افواج کے قبضے میں آگیا جس کا انتظام برطانیہ اور فرانس کے پاس مشترکہ طور پر رہا۔ لیبیا کے دو صوبوں پر برطانیہ کی حکومت تھی جب کہ ایک صوبے پر فرانس کا اختیار تھا۔ 24 دسمبر 1951 کو حکومت برطانیہ نے لیبیا کی مکمل آزادی کا اعلان کر دیا۔ برطانیہ نے شاہ ادریس کی لیبیا میں تاج پوشی کی۔ برطانیہ نے شاہ ادریس سے تیل کے وہ خفیہ معاہدے کیے جن سے برطانیہ آنے والے کئی سالوں تک فائدہ اٹھاتا رہا۔ شاہ ادریس کے خلاف فوجی بغاوت شروع ہوگئی۔ کرنل معمر قذافی کی قیادت میں لیبیا پر فوج کا قبضہ ہوگیا۔ 1977 میں کرنل معمر قذافی نے لیبیا کو ایک جمہوری ملک قرار دیا ملک کا نام مملکت لیبیا سے ’’ لیبیا عرب جمہوریہ ‘‘ کر دیا۔

کرنل معمر قذافی نے وہ کام شروع کیے تھے جن کو سن کر امریکا، برطانیہ دیگر یورپی ممالک کانپنے لگے تھے ان کی روح سردیوں میں گرمی محسوس کرتی اور کانپتی۔ اقوام متحدہ نے لیبیا کو دہشت گردی کو فروغ دینے والے ممالک کی فہرست میں ڈال دیا۔ معمر قذافی کی رہائش گاہ پر حملے کیے گئے۔ قذافی نے عالمی طاقتوں کے دباؤ کی وجہ سے اربوں ڈالر جھوٹے الزامات کی بنیاد پر ادا کیے جو لیبین یا قذافی نے کبھی نہیں کیے تھے۔ اسرائیل جنگ میں مصر کا ساتھ دینا، صدام حسین کی رہائی کے لیے لڑنے والے وکلا میں ایک وکیل معمر قذافی کی بیٹی بھی تھی۔

کرنل معمر قذافی ہر طرح سے صدام حسین اور عراق کو امریکیوں اور نیٹو سے بچانا چاہتا تھا۔ عرب جنگ میں عراق کا ساتھ دینا کرنل معمر قذافی کو بہت مہنگا پڑا۔ عالمی طاقت نے لیبیا پر پابندیاں عائد کردیں۔ بغاوت کرائی گئی امریکا اور یورپ کی پشت پناہی شامل تھی رقومات کی ادائیگی بھی کی گئی ان باغیوں کو امریکا اور نیٹو کی حمایت حاصل تھی مالی امداد جاری تھی۔ 42 سال معمر قذافی کی حکومت رہی امریکا نے اسے قتل کروا دیا۔ اسلامی دنیا کے بہادر حکمران کو ختم کردیا گیا جوکہ تاریخ اسلام کا حصہ ہے بھلایا نہیں جاسکتا۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں