4

اکھاڑے کا منظر – ایکسپریس اردو


ایک کالم ہم پہلے بھی اس عمومی اعتراض کے خلاف لکھ چکے ہیں کہ ’’ موجودہ حکمران ناتجربہ کار ہیں‘‘ ہم نے لکھا تھا کہ ابتدا میں تو سب ہی ناتجربہ کار ہوتے ہیں، تجربہ تو کام کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ اگر موجودہ حکمران جماعت پہلی بار اقتدار میں آئی ہے تو ظاہر ہے کہ ناتجربہ کار ہی ہوگی۔ حالانکہ دوسری سیاسی جماعتوں کے تجربہ کار حکمران جماعت میں بکثرت موجود ہیں۔

سوائے وزیر اعظم کے جو پہلی بار کرسی وزارت عظمیٰ پر براجمان ہوئے ہیں لیکن ان کے کتنے ہی وزیر ومشیر کئی بار حکومت کرنے والی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں یعنی ہر صاحب اقتدار جماعت میں شامل ہوکر اقتدار کے مزے لوٹنے کا خاصا تجربہ رکھتے ہیں۔

اب اگر وزیر اعظم پہلی بار اقتدار میں آئے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاست میں بھی نئے ہیں، برسوں سے کرسی اقتدار پر نظر رکھنے والے اور جب سے سیاست میں قدم رنجا فرمایا ہے خود کو وزیر اعظم ہی سمجھنے والے پارٹی سربراہ جب کہ اس بار خاصے پرامید بھی تھے کہ شاید اقتدار مل ہی جائے تو کچھ مطالعہ آئین پاکستان کا، مروجہ قوانین کا، قومی اور بین الاقوامی طرز سیاست کا کچھ مشاہدہ سابق حکمرانوں کے سیاسی داؤ پیچ کا اور طبقہ اشرافیہ کے گورکھ دھندوں کا (حالانکہ وہ تو ساتھ ہی تھے) کے علاوہ خود اپنے اداروں، وعدوں بطور خاص ’’تبدیلی‘‘ کے لیے کچھ ہوم ورک کیوں نہ کیا؟

صورتحال اب یہ ہے کہ عجیب وغریب حالات پیش آ رہے ہیں ایوان اقتدار اور ایوان انصاف میں تقریری مقابلہ منعقد ہو رہا ہے، آئین کے متصادم نوٹیفکیشن جاری، ایف آئی آر درج ہورہی ہیں اور دھڑا دھڑ ملزم گرفتار، پھر اس پر تنقید ، بلا ثبوت یا ناکافی ثبوت کی بنا پر رہائی۔ کچھ احکامات عدلیہ کو نظرانداز کرتے ہوئے جاری ہونا پھر اس پر اعتراض کرنے یا نشاندہی کرنے والوں پر ذاتی حملے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ واقعی اپوزیشن کا حکمرانوں کو ’’ نالائق و نااہل‘‘ کا خطاب دینا کسی حد تک درست ہی ہے جب کہ ہم بے حد افسردہ ہو جاتے ہیں تجربہ کار سیاستدانوں کے منہ سے ایسے خطابات پڑھ کر یا سن کر اس عمل کو ہم انتہائی درجے کی سیاسی گراوٹ قرار دیتے ہیں کہ آج ہمارے سیاستدان ، دانشور ، ذرایع ابلاغ منتخب افراد کو ایسے القابات سے نواز رہے ہیں، اس کا مطلب کہ جب صاحبان اقتدار نالائق ہیں تو پھر ان کو منتخب کرنے والی قوم خود کیا ہے؟ اصولاً تو قوم کے سب سے بہتر فرد کے ہاتھ میں عنان حکومت ہونی چاہیے۔

ہماری آج کی سیاست ملکی مسائل حل کرنے ، اسمبلیاں قانون سازی کرنے کے بجائے دنگل یا اکھاڑے کا منظر پیش کر رہی ہیں جہاں ایک دوسرے پر تنقید کرنا مخالفین کی خامیوں کو طشت از بام کرنا، ذاتیات پر حملے کرنے اور نجی معاملات زیر بحث لانا ، بیماری پر اعتراضات اور بیماروں کا مذاق اڑانا ، لیڈران قوم بیماری کے بہانے بنا کر سیر سپاٹے کرنے، قوم کو مشکل وقت میں پیٹھ دکھانے کا فرض ہی ادا کر رہے ہیں (جو کسی نے بھی ان پر عائد نہیں کیا) آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر نوٹیفکیشن اور سمری میں تضاد پر سپریم کورٹ کے اعتراضات اور یہ ریمارکس کہ ’’ کیا کسی نوٹیفکیشن کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی‘‘ یا یہ کہ ’’ بعض اوقات حکمران جماعت ایسی غلطیاں کرتی ہے کہ ہمیں فیصلے کالعدم قرار دینے پڑتے ہیں‘‘ نے ثابت کر دیا کہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو ، یعنی صاحبان اقتدار کی نالائقی کی حد نہیں اس میں تجربہ کے بجائے ناقص معلومات پہلی وجہ ہے۔

حصول اقتدار سے قبل سابق حکمرانوں پر جا بجا تنقید کرنا اور خود ایسے دعوے اور وعدے کرنا جن پر عمل ہونا خواب وخیال ثابت ہو جب اونٹ پہاڑ کے نیچے آتا ہے تب اپنی قامت کا اندازہ ہوتا ہے، مانا کہ سابق حکمران اچھے نہ تھے مگر کچھ نہ کچھ کر تو رہے تھے چاہے وہ سب ظاہری ہی تھا۔ مگر آپ تو ظاہری بھی نہیں صرف ’’ زبانی‘‘ کارکردگی کے ماہر نکلے۔ ایک ماہ یا جب سے اقتدار میں آئے ہیں اس دن سے آج تک کے اخبارات اٹھائیں روز ایک اعلان ، ’’ہر بے روزگار کو روزگار فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، ہر بچے کو تعلیم دینا ہماری اولین ترجیح ہے، یکساں نظام تعلیم ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر شہری کو علاج کی سہولت مہیا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے‘‘ پندرہ ماہ میں پندرہ ہزار نہ سہی پندرہ سو ’’ اولین ترجیحات ‘‘ باآسانی آپ کو مل جائیں گی اور ان میں سے کوئی ایک بھی ’’ اولین ترجیح ‘‘ کو ترجیح نہیں دی جاسکی۔ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابو طالبؓ کا ہر قول علم ظاہری و مخفی کا ایسا خزانہ ہے کہ ان پر جتنا غور کیا جائے اتنے ہی غور و فکر کے پہلو سامنے آتے ہیں۔ آپ کا یہ مشہور قول کہ ’’معاشرہ کفر پر قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم و ناانصافی پر نہیں‘‘ کیا آج ہمارا معاشرہ اسی صورتحال سے دوچار نہیں؟

ٹیکس محصولات کیا محض دنیا بھر سے لیے گئے قرض کا سود ادا کرنے کے لیے ہیں؟ جب کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ عوام ٹیکس ادا کریں تو اس کے بدلے حکومت انھیں زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔ ٹیکس میں اضافے، وصول ہونے نہ ہونے کا تو اس قدر شور (حالانکہ کس چیز پر کون ٹیکس نہیں دے رہا) مگر گیس، بجلی، پانی، اشیائے خور ونوش ناکافی ہی نہیں بلکہ دستیاب ہی نہیں اب تو آٹے کا بھی بحران ہے کہ فی کلو قیمت محنت و مشقت کرنے والوں کی پہنچ سے دور، ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں، وزیروں، مشیروں کو تو فرق نہیں پڑتا وہ جو صبح سے شام تک دیہاڑی پر کام کرنے والے دن بھر کی محنت کے بعد چند سو روپے کماتے ہیں اور گھر کے کم ازکم آٹھ افراد کے واحد کفیل ہوتے ہیں جن کا ایک وقت پیٹ بھرنے کے لیے کم ازکم دو کلو آٹا چاہیے وہ کیا کریں؟

اس صورتحال میں لوٹ مار، ڈاکہ زنی، قتل و غارت گری ہی میں اضافہ ہوگا۔ کیونکہ چاہے کوئی جاگیردار ہو یا مزدور بھوک تو سب کو لگتی ہے۔ پیٹ کا جہنم بھرنا ہر انسان کی اولین ضرورت ہے۔ طبقہ اشرافیہ کے دسترخوان پر تینوں وقت 108 اقسام کے کھانے، جتنا وہ کوڑے دان میں ڈال دیں اتنا کسی کو دو وقت بھی میسر نہ ہو تو کیا ایسا معاشرہ قائم رہنے کے قابل ہوگا؟

آٹے کا بحران وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی ناقص کارکردگی کے باعث رونما ہوا یا بقول حکمران مخالفین کی حکومت کے خلاف سازش کے سبب۔ مگر ہر حال میں عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات مہیا کرنا حکومت وقت کی ذمے داری ہوتی ہے۔ ہر بحران ، روزافزوں مہنگائی ، بازار سے اشیائے خور و نوش کا غائب ہونا یا اتنا مہنگا ہونا کہ عوام کی قوت خرید سے باہر ہوجائے۔ دوسری جانب سیاسی انحطاط وفاقی وزرا کے بیانات، رویے، ہر بگڑی بات کی ذمے داری مخالفین پر عائد کرکے حکومت وقت خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔

آج کی اہم خبر چینی (شکر) کا بھی بحران قیمتوں میں ایک دم اضافہ۔ ساتھ ہی وزیر اعظم کی طفل تسلیاں، مہنگائی کا احساس ہے جلد بہتری آئے گی۔ خدا کرے اس بار یہ بات سچ ثابت ہو۔ ورنہ صورتحال تو یہ ہے کہ ’’جلد یہ ہوگا اور جلد عوام فلاں خوشخبری سنیں گے‘‘ تو ہم اول روز سے سنتے آ رہے ہیں، مگر ان پندرہ ماہ میں ٹماٹر، گیس، بجلی، سبزی ترکاری، آٹا، چینی اور ٹرانسپورٹ کے بحرانوں کا سامنا اور کوئی ایک چیز ایسی نہیں کہ اس کی قیمت اس دوران کم ہوئی ہو۔ عوام اس صورتحال سے تنگ آچکے ہیں اور ’’تبدیلی‘‘ کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں