5

بڑھتی مہنگائی نے کاشتکاروں کی کمر بھی توڑدی


مہنگائی سے پریشان چھوٹے کاشتکار اپنے اجداد کے پیشے کو چھوڑنے پر مجبور فوٹو: ایکسپریس

مہنگائی سے پریشان چھوٹے کاشتکار اپنے اجداد کے پیشے کو چھوڑنے پر مجبور فوٹو: ایکسپریس

 لاہور: بڑھتی مہنگائی سے جہاں ہر طبقہ پریشان ہے وہاں کیمیائی کھادوں ،زرعی ادویات، بیج اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے کاشتکاروں کی کمرتوڑدی ہے۔

لاہورکے نواحی علاقے میں مقامی زمیندارمیاں لیاقت علی نے اپنے رقبے پرآلو اورگندم کی فصل کاشت کی ہے۔ وہ آلو کی اچھی پیداوار اور مناسب قیمت سے خوش ہیں لیکن گندم کی پیداواری لاگت بڑھنے سے پریشان بھی ہیں۔ انہوں نے ایکسپریس کوبتایا کہ کاشت کاری کے لئے نہری پانی میسر نہیں ہے، ہمیں مجبوراً ٹیوب ویل چلانا پڑتا ہے۔ بجلی کے فی یونٹ نرخ بڑھ چکے ہیں، ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹریکٹر کے اخراجات بڑھ گئے ہیں لیکن فصل کی قیمت کم ملتی ہے۔ اب اگر حکومت کسانوں اور کاشتکاروں کی مدد کرنے کے لئے گندم سمیت دیگرفصلوں کی قیمت بڑھاتی ہے تو اس کا اثرعام آدمی پر پڑے گا۔ اس لئے ان کاحکومت سے مطالبہ ہے کہ گندم،چاول اورگناکی موجودہ قیمت برقراررکھتے ہوئے بجلی کی نرخوں میں کمی کرے، کھادپرسبسڈی بڑھائی جائے اوربیج سستا دیا جائے۔

لیاقت علی نے بتایا کہ منڈی میں آڑھتیوں نے ان سے 1300 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدی تھی اوراب جب ہمیں بیج کے لئے ضرورت پڑی تو وہی گندم 1900 روپے فی من تک میں فروخت کررہے ہیں۔

ایک اور کاشتکار جاوید اقبال کا کہنا تھا انہوں نے 50 ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی ہے،آبپاشی کے لئے ان کی خود کی ٹربائن ہے جس کو ایک گھنٹہ چلانے کا خرچہ تقریباً 400 روپے ہے۔ ایک ایکڑ فصل کو پانی سے سیراب کرنے کے لئے ٹربائن کو چار گھنٹے تک چلاناپڑتا ہے اور پھر فصل کی تیاری تک تقریبا چار مرتبہ پانی دینا ہوگا۔ یوریا کی بوری جو 1700 روپے کی تھی وہ اب 2 ہزار50 روپے میں مل رہی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ فی بوری کی قیمت 400 روپے کم کی ہے لیکن ڈیلر کے پاس جائیں تو وہ کہتے ہیں کہ حکومت نے اگر سستی کھاد کا اعلان کیا ہے تو حکومت سے جاکر خرید لیں۔ گندم کی فی ایکڑ پیداواری لاگت تقریباً 25 ہزار روپے ہے اور ممکن ہے جس طرح کے موسمی حالات رہتے ہیں فی ایکڑ پیداوار صرف 25 من حاصل ہوسکے۔

مقامی کاشتکاروں کا کہناتھا کہ پھیلتی ہوئی ہاؤسنگ اسکیموں اور آبپاشی کے لئے پانی کی کمی کے باعث زیر کاشت رقبہ پہلے ہی تیزی سے کم ہوتا جارہا ہے اور اب جس قدر مہنگائی ہوتی جارہی ہے اس سے چھوٹے کاشتکار اپنے اجدادکے اس کام کو چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اخراجات پورے کرنے کے لئے تمام فصل مارکیٹ میں بیچنا پڑتی ہے اور ایک دانہ بھی گھر نہیں رکھ سکتے۔ خود گندم کاشت کرتے ہیں لیکن گھرکے لئے آٹا ،چاول دکان سے خریدنا پڑتے ہیں۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں